.

بغداد فوجی بیس کے باہر خودکش کار بم دھماکا، 31 اہلکار ہلاک

کسی گروپ نے حملےکی ذمے داری قبول نہیں کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق کے دارالحکومت بغداد کے نواح میں واقع ایک فوجی اڈے کے باہر خودکش کار بم دھماکے کے نتیجے میں اکتیس فوجی ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

عراقی پولیس کے حکام نے بتایا ہے کہ بغداد سے بیس کلومیٹر مشرق میں واقع قصبے تاجی میں خودکش بمبار نے ایک بیس کے باہرجمع فوجیوں کے درمیان اپنی بارود سے بھری کار دھماکے سے اڑا دی جس سے شاہراہ پر کھڑی متعدد گاڑیوں کو آگ لگ گئی۔

اسپتال ذرائع نے اس بم دھماکے میں اکتیس افراد کی ہلاکت اور پچاس کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ایک پولیس اہکار احمد خالف نے بتایا ہے کہ زیر تربیت فوجی بیس سے باہر نکل رہے تھے اور ان کو لینے کے لیے منی بسیں وہاں کھڑی تھیں۔ اس دوران زوردار دھماکا ہوا اور ہر طرف انسانی اعضاء بکھر گئے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اس خودکش کار بم دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔گذشتہ ایک ہفتے کے دوران عراق میں یہ دوسرا تباہ کن حملہ ہے۔اس سے قبل اکتوبر کے آخر میں بغداد میں پے درپے بم دھماکوں کے نتیجے میں چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ان میں بعض شیعہ زائرین بھی شامل تھے۔

عراق سے گذشتہ سال دسمبر میں امریکی فوج کے مکمل انخلاء کے بعد سے مزاحمت کار ملک کے مختلف علاقوں میں ہر ماہ ایک یا دو بڑے بم دھماکے کرتے ہیں۔ ماضی میں ان حملوں کا القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ ''ریاست اسلامی عراق'' پر الزام عاید کیا جاتا رہا ہے۔