مالی سخت گیر مذہبی تنطیم کا فوجی مداخلت کے سنگین مضمرات پر انبتاہ

اسلامی اصولوں کے باوجود القاعدہ سے اختلاف ہے: ابو عمامہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

انصار الدین کے ترجمان سند ولد ابو عمامہ نے اپنی تنظیم اور شدت پسند تنظیم القاعدہ کے درمیان مماثلت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی اصولوں کے اعتبار سے دونوں جماعتیں یکساں نظریات کی حامل ہیں لیکن طریقہ کار میں جوہری فرق ہے۔

مال میں سرگرم القاعدہ کی ذیلی تنظیم تحریک توحید والجہاد سرحد پار بھی عسکری کارروائیوں پر یقین رکھتی ہے۔ اس کے مقابلے میں ہماری جماعت ایک علاقائی گروہ ہے۔ اس کے بنیادی اصول بھی اسلامی ہیں لیکن ہم مالی کے عوام کے حقوق کے حصول کے لیے لڑ رہے ہیں اور توحید والجہاد اسلامی خلافت کے احیاء کے لیے جدو جہد کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے دورہ الجزائر کے بعد یہ خبریں بھی گردش کرنے لگی تھیں کہ امریکا، افریقہ کے اپنے دوست ملکوں کی مدد سے مالی میں اسلامی شدت پسند تنظیموں کے خلاف فوجی کارروائی کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ انہی خبروں کے جلو میں مالی کی ایک مقامی مذہبی تنظیم انصار الدین نے ممکنہ فوجی کارروائی کی روک تھام کے لیے الجزائر اور دوسرے ملکوں میں اپنے وفود بھیجے ہیں۔ تاکہ بات چیت کے ذریعے مسئلے کا کوئی حل نکالا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں