.

ٹیوٹر ۔۔۔ مطبوعہ صحافت کی حاکمیت کے لئے کھلا چیلنج بن گیا

سماجی رابطے کی ویب سائٹس تبادلہ خیال کی زرخیز سر زمین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب میں سماجی رابطے کا نیٹ ورک یا نیو میڈیا بہت تیزی سے روایتی ذرائع ابلاغ کی جگہ لیتا دکھائی دے رہا ہے۔ ان نیٹ ورکس کے ذریعے خبریں اور ان کا فالو اپ بہت سرعت کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے۔

فیس بک اور ٹیوٹر جیسے سماجی رابطوں کے نیٹ ورک استعمال کرنے والوں کا کہنا ہے ان کے استعمال میں انہیں لامحدود آزادی حاصل ہے۔ نیز ایڈوانس رابطے کی سہولت تمام دوسری خصوصیات پر بھاری ہے۔ اگرچہ بعض اوقات ان رابطوں کے ذریعے نشر کی جانے والی خبروں کی تصدیق نہیں کی جا سکتی تاہم اس کے باوجود ٹیوٹر اور فیس بک کی مقبولیت روز بروز بڑھ رہی ہے۔ تمام منفی پہلوؤں کے باوجود فیس بک اور ٹیوٹر کی جدت اور جرات ہی کے بل بوتے پر سعودی شہری خود کو متاثر کرنے والے تمام امور پر آزادانہ گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔

اس ضمن میں محمد بن سعود یونیورسٹی کی میڈیا فکلیٹی کے پروفیسر سعود الغربی نے العربیہ نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے اس رائے کا اظہار کیا کہ نیو میڈیا اپنی فنی، الیکٹرونک اور مواصلاتی حقیقتوں کا لوہا منوا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فنی ندرتوں کا درست طریقے سے استعمال کر کے انہیں خوب سے خوب تر کے حصول کا نمونہ بنائیں۔

پروفیسر الغربی کے مطابق میڈیا کی راہ میں حائل ایک اور رکاوٹ یہ ہے کہ اس کے صحافی اور نمائندے اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے ضروری وسائل سے لیس نہیں، اسی لئے وہ معلومات کے ماخذ تک اس سرعت سے نہیں پہنچ پاتے جتنی سرعت کے ساتھ نیو میڈیا استعمال کرنے والے پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔

انٹرنیٹ پر موجود خبروں کی صداقت کے بارے میں پروفیسر الغربی کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی ادارے نیو میڈیا کو قدر منزلت کی نظر سے دیکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اس تحفظ کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ یہ معلومات بسا اوقات درست نہیں ہوتیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معلومات کو 'ٹیویٹ' کرنے سے پہلے ان کا چھان پھٹک کر لی جائے تو اچھا ہے تاکہ ٹیوٹس کی فوری ترویج کے شوق میں مبادہ بے بنیاد خبریں نشر نہ ہو جائیں۔