.

سعودی شہری کو مطلقہ بیوی کو 24 ملین ریال ادا کرنے کا حکم

’بیوی کو شوہر کی آمدن کے مطابق خوشحال زندگی گذارنے کا حق ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب کے ایک شہری کو بیوی کو طلاق دینا اتنا مہنگا کہ اسے عدالت سے مدد کی کرنا پڑ گئی ہے۔ برطانوی ہائی کورٹ نے ایک سعودی خاتون کی درخواست پر اس کے سابق شوہر کو چوبیس ملین ریال فوری طور پر ادا کرنے اور نو لاکھ ریال سالانہ تاحیات ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔



اخبار ’’الحیاۃ‘‘ کے سعودی ایڈیشن نے طلاق اور عدالت کے اس انوکھے فیصلے کی تفصیلات سے متعلق اپنی رپورٹمیں کہا ہے کہ لندن ہائی کورٹ کی خاتون جج بارون نے مطلقہ خاتون کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ شوہر کو اپنی آمدن کے مطابق اپنی اہلیہ اور پورےخاندان کو خوشحال رکھنا چاہیے اور اہلیہ کو شوہر کی دولت سے خوشحال زندگی گذارنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ اسی اصول کے تحت مطلقہ خاتون کو بھی اپنے شوہر کی دولت سے استفادے کا حق تھا۔



رپورٹ کے مطابق طلاق یافتہ خاتون کے وکیل نے بتایا کہ اس کی مؤکلہ لندن میں یکادللی کے مقام پر ایک مہنگے فلیٹ میں تنہائی کی زندگی بسر کرہی ہے۔ خاتون نے عدالت سے استدعا کی اسے اپنے سابق شوہر سے بیالیس ملین ریال کی رقم دلوائی جائے۔

رپورٹ کے مطابق 48 سالہ سعودی شوہر نے اپنے وکیل کے ذریعے عدالتی فیصلے پر ردعمل میں کہا ہے کہ عدالت اسے سابق اہلیہ کو اتنی خطیر رقم خرچ کرنے پر مجبور نہ کرے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مطلقہ کو پہلے ہی لندن میں پندرہ ملین ریال کا فلیٹ اور گھر یلواخراجات کے لیے ماہانہ ساٹھ ہزار ریال دیگر اخراجات کے لیے نو ملین ریال کی رقم ادا کر چکا ہے۔



رپورٹ کے مطابق برطانوی عدالت کی خاتون جج نے لندن میں مقیم سعودی شہری کی آمدن کی تفصیلات طلب کرنے کے بعد فیصلہ دیا کہ گو کہ ایک خاتون کے لیے سالانہ چار ملین پاؤنڈ کافی ہے لیکن ملبوسات، میک اپ، گھریلو ملازمہ کی تنخواہ اور دیگر ضروریات کی مد میں ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ کا اضافہ کیا ہے۔



جسٹس بارون کی عدالت میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق سعودی تاجر کی سالانہ آمدن تیس ملین ریال ہے، تاہم اس کی مطلقہ کا کہنا ہے کہ سابق شوہر اپنی دولت کو اس کےخلاف استعمال کرتا رہا ہے۔



برطانوی اخبار ’’ڈیلی ٹیلی گراف‘‘ نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سابقہ جوڑے کی طلاق اور عدالت کی طرف سے واجب الادا عوضانے کی تفصیلات شائع کی ہیں لیکن اخبار نے فریقین کے نام صیغہ راز میں رکھے ہیں۔ ڈیلی ٹیلیگراف کی رپورٹ سےکے مطابق عدالت میں جمع کی گئی دستاویز کے مطابق مدعیہ اور مدعا علیہ 1998ء میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے جو جدہ میں کچھ سال تک پر تعیش زندگی بسر کرتے رہے ہیں۔