.

لیبیا مصطفیٰ عبدالجلیل سے باغی لیڈر کے قتل کی تفتیش کا حکم

سابق وزیر داخلہ کی باغیوں کے ہاتھوں قتل کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لیبیا کی ایک عدالت نے فوجی پراسیکیوٹرز کو سابق حکمران عبوری قومی کونسل (این ٹی سی) کے چئیرمین مصطفیٰ عبدالجلیل سے ایک باغی کمانڈر کے قتل کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی کی ایک عدالت کے جج عبداللہ آل سیدی نے باغی کمانڈر اور سابق وزیر داخلہ عبدالفتاح یونس کے سابق صدر معمر قذافی کے خلاف مسلح بغاوت کے دوران جنگجوؤں کے ہاتھوں اندوہناک قتل کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انھوں نے عدالت میں جب یہ فیصلہ پڑھ کر سنایا تو وہاں موجود لوگوں نے داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے۔

یاد رہے کہ عبدالفتاح یونس کو جولائی 2011ء میں محاذ جنگ پر ہونے والی بعض غلطیوں کی تحقیقات کے لیے مشرقی شہر بن غازی واپس لاتے ہوئے باغیوں نے راستے ہی میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔اس واقعے میں ان کے دوساتھی بھی مارے گئے تھے۔ وہ اس وقت سابق صدر معمر قذافی کی فوج کے خلاف بر سر پیکار باغی جنگجوؤں اور فوج کی قیادت کر رہے تھے۔

قذافی کے دور حکومت وزیر انصاف کے عہدے پر فائز رہنے والے مصطفیٰ عبدالجلیل نے گذشتہ سال دسمبر میں ایک بیان میں کہا تھا کہ سابق وزیر داخلہ عبدالفتاح یونس کے قتل میں ملوث افراد کا سراغ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن ایک سال گزر جانے کے باوجود ان کے قاتلوں کا کچھ پتا نہیں چل سکا۔

عبدالفتاح یونس سابق مرد آہن معمرقذافی کے خلاف فروری 2011ء میں شورش بپا ہونے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے اور وہ دوسرے بڑے شہربن غازی پر قابض انقلابیوں کے ساتھ آ ملے تھے۔



لیبیا میں مسلح عوامی بغاوت کے دوران عبوری قومی کونسل کے چئیرمین مصطفیٰ عبدالجلیل نے باغی جنگجوؤں پر زور دیا تھا کہ وہ قانون کا احترام کریں اور معمر قذافی کی حکومت کے عہدے داروں سے پُرتشدد انتقام نہ لیں مگر باغیوں نے ان کی بات پر کوئی کان نہیں دھرے تھے اور اب لیبیا میں منتخب حکومت کے قیام کے بعد ملیشیاؤں کے اثر و رسوخ اور تشدد آمیز کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔