.

مراکش بیلجیئم مقابلہ حسن کی شرکاء کا مسجد میں نیم عریاں فوٹو سیشن

انٹرنیٹ پر تصویر کی ترویج نے ملک میں نیا تنازعہ کھڑا کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مراکش کی سب سے بڑی مسجد میں بیلجیئم مقابلہ حسن 2013 کی شرکاء کے گروپ فوٹو نے اسلامی جماعت کی زیر نگیں شمالی افریقی آئینی بادشاہت میں ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔

کاسابلانکا کی مسجد حسن میں مقابلہ حسن کی شرکاء کی نیم عریاں فوٹو انٹرنیٹ کے ذریعے بڑے پیمانے پر پھیلائی جا رہی ہے۔ اس تصویر نے متعدد سوالات کو جنم دیا ہے کہ مراکش کا کونسا ادارہ اس قابل اعتراض فوٹو شوٹ کی اجازت دینے کا ذمہ دار ہے۔

مراکش کے 'ہس پریس' پورٹل نے وزارت مذہبی امور کے ایک ذریعے کا بیان نقل کیا ہے کہ جس میں اس بات کی دوٹوک تردید کی گئی ہے کہ وزارت کا متنازعہ تصویر بنانے کی اجازت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسجد انتظامیہ ہی ایسے امور کی اجازت دینے یا نہ دینے کی مجاز ہے۔

کاسابلانکا کی سٹی کونسل نے بھی تصویر کے معاملے سے اپنی بریئت کا اظہار کیا ہے۔ کونسل کے ایک رکن نے بتایا کہ ادارے نے اس تصویر بنانے کی اجازت نہیں دی۔

حکومت مخالف سوشلسٹ یونین پارٹی کے ہم خیال ایک اخبار نے مسجد انتظامیہ کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ متنازعہ تصویر بنانے کی اجازت مراکش کے سنیما سینٹر نے دی۔

روزنامہ 'اتحاد' کے مطابق مراکش سنیما سینٹر نے بیلجیئم کی فرانسیسی کیمونٹی کے ترجمان ریڈیو کو تصویر بنانے کی اجازت دی۔

'ہس پریس' پورٹل میں شائع بیان میں مراکش کی معروف مذہبی شخصیت شیخ عبدالباری زمزمی نے وزیر مذہبی امور کو سارے معاملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ کچھ لوگوں نے مسجد میں نیم عریاں دوشیزاؤں کے فوٹو شوٹ کو ناقابل قبول واقعہ قرار دیتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ مراکش کے بعض حلقے سارے معاملے سے خود کو لاتعلق سمجھتے ہوئے اس رائے کا اظہار کر رہے ہیں کہ مسجد اپنی سنجیدہ مذہبی اہمیت کھو چکی ہے کیونکہ اسے عبادت گاہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک سیاحتی مقام کے طور پر بنایا گیا۔