.

امریکا سے جنہم میں بھی مذاکرات جاری رکھیں گے ایرانی عہدیدار

اوباما کی دوسری صدارتی مدت کے آغاز پر ایرانی موقف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران نے امریکا کے ساتھ جوہری تنازع سمیت تمام تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔ ایرانی حکومت کے ایک سینیر عہدیدار کا کہنا ہے کہ اگر امریکا دوزخ کے گڑھے ہی میں کیوں نہ ہو تب بھی تہران مذاکرات جاری رکھے گا۔ ایرانی عہدیدار کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں براک اوباما چار سال کے لئے دوسری بار صدر منتخب ہوئے ہیں۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کی جوڈیشل اور قانون ساز اتھارٹیز کے چیئرمین صادق لاریجانی کے بھائی محمد جواد لاریجانی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی شکل میں بات چیت نہیں روکی جائے گی۔ ہمیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ امریکی داخلی مسائل کیا ہیں۔ وہ چاہے جہنم کے کسی گڑھے ہی میں کیوں نہ ہو بہرحال ہمیں مذاکرات ترک نہیں کرنے چاہئیں۔



خیال رہے کہ ایرانی عہدیدار امریکا سے شدید اختلافات کے باوجود واشنگٹن سے بہتر تعلقات کی خواہش کا بھی اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان رہنماؤں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا نام سرفہرست ہے۔ بہ قول خامنہ ای: "اگر ایران کا مفاد امریکا سے تعلقات کے قیام میں ہو تو ان سے بڑھ کر اس دوستی کا کوئی اور حامی نہیں ہو گا۔



محمد جواد لاریجانی نے ایران کی جوڈیشل کونسل کی انسانی حقوق کمیٹی کے ایک اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ’’ایران کے مفادات کے لیے امریکا سے بات چیت کی ضرورت پڑی تو ہم مذاکرات کریں گے چاہے یہ مذاکرات جہنم کے گڑھے ہی سے کیوں نہ کرنے پڑیں‘‘۔



نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی 'مہر' کی رپورٹ کے مطابق جواد لاریجانی نے کہا کہ امریکیوں سے مذاکرات کوئی حرام چیز نہیں ہے۔ انہوں نے اصلاح پسندوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ہمیں کسی دوسرے ملک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بات چیت کرنی چاہیے جبکہ اصلاح پسند امریکیوں کے آگے بچھے جاتے ہیں۔ انہوں نے ایران کے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سابق صدر نے امریکیوں کے ساتھ ضرورت سے زیادہ نرمی کا مظاہرہ کیا حالانکہ دشمن کے ساتھ بات چیت کے لیے پہلے کوئی ٹھوس لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔



اسی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک دوسرے عہدیدار صادق لاریجانی نے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ امریکا یہ بات ذہن سے نکال دے کہ وہ مذاکرات کی ایرانی خواہش کی آر میں قوم کو بلیک میل کر لے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ امریکا نے ایرانی قوم کے خلاف جن جرائم کا ارتکاب کیا ہے اس کے بعد واشنگٹن ۔ تہران تعلقات کا قیام ایک کٹھن کام بن چکا ہے جس کے قیام میں وقت درکار ہو گا۔



خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات پچھلے تین عشروں سے خراب ہیں۔ اس کے باوجود ایرانی عہدیدار امریکا کے ساتھ بات چیت کی بحالی کی حمایت کرتے آئے ہیں۔



امریکی مخالفت کے لئے مشہور سخت گیر صدر احمدی نژاد کے بھی ایسے کئی بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں وہ ایک جانب امریکا کو 'شیطان اعظم' کا بھی لقب دیتے ہیں لیکن پچھلے ماہ نیویارک میں جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واشنگٹن سے بات چیت کی حمایت بھی کی تھی۔۔

ٹی وی چینل 'سی بی ایس' اور 'بی بی ایس' کو انٹرویو میں انہوں نے استفسار کیا تھا کہ ہمیں اپنی صلاحتیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون میں استعمال کرنے میں کیا حرج ہے۔ ان کا اشارہ امریکا کے ساتھ بات چیت کے ذریعے تعلقات کی بحالی کی جانب تھا۔ ایک اور موقع پر جاپانی ٹی وی ’’این ایچ کی‘‘ سے بات کرتے ہوئے ایرانی صدر نے امریکا سے دشمنانہ ماحول کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ایرانی صدر کے اس بیان کے بعد تہران میں یہ خبریں آنے لگی تھیں کہ احمدی نژاد پس چلمن امریکیوں سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔