.

امریکا شاتم رسول فلم ساز کو فراڈ پر ایک سال قید کی سزا

ضمانت پر رہائی کی شرائط کی خلاف ورزی کا جرم ثابت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے اسلام مخالف فلم بنانے والے مصری نژاد قبطی عیسائی شاتم رسول مارک بیسلے یوسف کو عبوری ضمانت کی خلاف ورزی کے جرم میں قصور وار قرار دے کرایک سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

لاس اینجلس کی امریکی ڈسٹرکٹ جج کرسٹینا سنائیڈر نے مارک یوسف کو ایک سال کی جیل کی سزا کے علاوہ رہائی کے بعد چار سال تک حکام کی نگرانی میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

مارک بیسلے یوسف المعروف نیکولا باسیلی نیکولا نے عدالت میں اعتراف کیا تھا کہ اس نے متعدد عرفی نام استعمال کیے تھے اور اپنے پروبیشن آفیسر کے ساتھ جھوٹ بولا تھا اور بنک فراڈ کے مقدمے میں جیل سے رہائی کے لیے طے شدہ شرائط کی بھی خلاف ورزی کی تھی۔

عدالت کے فیصلے کے بعد مجرم کے وکیل صفائی اسٹیون سیڈن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پروبیشن کیس کو ان کے موکل کو سزا دینے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔اس طرح اس کے آزادیٔ اظہار کے آئینی حقوق کو سلب کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ ان وکیل صاحب کا کہنا تھا کہ اس سماعت کا توہین آمیز فلم سے ہر طرح کا تعلق ہے۔

مارک یوسف نے اپنی شناخت کو چھپانے کے لیے کئی عرفی نام استعمال کیے تھے۔ وہ بدنام زمانہ توہین آمیز فلم کی تیاری کے وقت ''سام باسیل'' نام استعمال کرتا رہا تھا اور متعدد ایکٹروں اور اس فلم سے تعلق رکھنے والے دوسرے افراد نے اس کے اس نام کی تصدیق کی تھی۔

پچپن سالہ ملعون فلم ساز کو ستمبر میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ''مسلمانوں کی معصومیت'' کے نام سے اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت آمیز فلم بنانے والے اس پروڈیوسر کو 2011ء میں بنک فراڈ کے ایک مقدمے میں ضمانت پر جیل سے رہا کیا گیا تھا۔اب اس کے خلاف اس رہائی کے لیے طے شدہ ضمانتی شرائط کی خلاف وزی کے جرم میں سزاسنائی گئی ہے۔البتہ اس کے خلاف شرانگیز فلم بنانے، مسلمانوں کے نبی کی توہین اور اشتعال انگیزی پھیلانے کے جرم میں کوئی تحقیقات نہیں کی جارہی ہے۔

جج نے قرار دیا کہ مدعا علیہ مسلسل دھوکا دہی کا مرتکب ہوتا رہا ہے اور اس نے اس مقصد کے لیے متعدد عرفی نام استعمال کیے تھے۔عدالت میں اس گستاخ رسول کے وکیل نے کہا کہ اس کے موکل کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے۔تاہم وکیل صفائی اسٹیوسیڈن نے دس ہزار ڈالرز کے ضمانتی مچلکوں کے بدلے میں اپنے موکل کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن جج نے یہ درخواست مسترد کردی تھی۔

قبل ازیں یوسف کو فراڈ کے ذریعے 641 کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ حاصل کرنے اور ساٹھ بنک اکاؤنٹس کھولنے کے جرم میں قصور وار قراردیا گیا تھا۔اس نے بنکوں سے فراڈ کے ذریعے آٹھ لاکھ ڈالرز کی رقم ہتھیا لی تھی۔عدالت کے ریکارڈ کے مطابق نیکولا کو گذشتہ سال بنک فراڈ کے مقدمے میں رہائی کے وقت طے شدہ شرائط کے تحت رہا کیا گیا تھا اور اس کو پروبیشن آفیسر کی اجازت کے بغیر انٹرنیٹ اور کوئی عرفیت استعمال کرنے سے روک دیا گیا تھا لیکن اس نے اس عبوری ضمانت کی آٹھ خلاف ورزیاں کی ہیں۔

مارک یوسف اینڈ کمپنی نے گیارہ ستمبر کو شرانگیز فلم انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی تھی۔اس کے خلاف بیس سے زیادہ مسلم ممالک میں امریکی سفارت خانوں یا قونصل خانوں کے باہر پُرتشدد مظاہرے کیے گئے تھے اور لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر مشتعل مظاہرین کے حملے میں امریکی سفیر سمیت چار اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ پاکستان ،افغانستان ،سعودی عرب اور بنگلہ دیش نے توہین آمیز فلم نہ ہٹانے پرویڈیو شئیرنگ ویب سائٹ یو ٹیوب تک رسائی بلاک کر دی تھی۔