.

ایران خلیج فارس کی حدود میں امریکی ڈرون کو نشانہ بنانے کی تصدیق

واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہے: وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران کے وزیر دفاع نے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے اس دعوے کی تصدیق کی ہے کہ دو ایرانی جنگی طیاروں نے گذشتہ ہفتے خلیج میں امریکا کے ایک بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے (ڈرون) کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ایسنا اور سرکاری پریس ٹی وی نے وزیر دفاع جنرل احمد وحیدی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ''گذشتہ ہفتے خلیج فارس میں ایک نامعلوم طیارہ اسلامی جمہوریہ کے پانیوں کے اوپر فضائی حدود میں گھس آیا تھا لیکن مسلح افواج کے بروقت، دانش مندانہ اور فیصلہ کن اقدام کے نتیجے میں وہ بھاگ جانے پر مجبور ہو گیا''۔

انھوں نے کہا کہ ''اس واقعہ اور ماضی میں وقوع پذیر ہونے والے ایسے دوسرے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس تمام نقل وحرکت کی نگرانی اور صورت حال سے بروقت اور فیصلہ کن انداز میں نمٹنے کے لیے درکار وسائل موجود ہیں''۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایران اس واقعہ کی تحقیقات کر رہا ہے اور بین الاقوامی چینلوں کے ذریعے بھی اس کیس کی پیروی کی جا رہی ہے۔

ایرانی وزیر دفاع کے اس بیان سے قبل مسلح افواج کے نائب سربراہ بریگیڈئیر جنرل مسعود جزائری کا جمعہ ہی کو ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انھوں نے اپنی فضائی حدود میں فائرنگ کے واقعہ کے رونما ہونے کی اطلاع دی تھی۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق جنرل مسعود جزائری نے کہا کہ ''ایران کی مسلح افواج فضائی، بری اور زمینی حدود میں کسی بھی دراندازی سے نمٹنے کے لیے چوکس ہیں''۔ انھوں نے ڈرون طیارے پر فائرنگ کا حوالہ نہیں دیا تھا۔

دوسری جانب واشنگٹن میں پینٹاگان کے ترجمان جارج لٹل نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ایس یو 25 فراگ فُٹ جنگی طیاروں نے یکم نومبر کو بین الاقوامی فضائی حدود میں ڈرون طیارے پر فائر کیا تھا لیکن ان کا نشانہ خطا گیا تھا۔

مسٹر جارج لٹل نے اعتراف کیا کہ ''ایرانی طیاروں نے ڈرون کا پتا چلانے کے بعد اس پر کئی راؤنڈ فائر کیے تھے''۔ یہ واضح نہیں ہے کہ ایرانیوں نے امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کو خبردار کرنے کے لیے فائر کیا تھا یا گرانے کے لیے۔ تاہم لٹل کا کہنا تھا کہ ہمارا مفروضہ یہ ہے کہ انھوں نے اس کو گرانے کے لیے فائر کیا تھا۔

امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈرون ایران کی فضائی حدود میں نہیں تھا اور ایرانی ساحل سے تھوڑا دور بین الاقوامی پانیوں کے اوپر اس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ انھوں نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اپنی فورسز کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔

پینٹاگان کے ترجمان اور دوسرے حکام کے بہ قول ایران کے دو روسی ساختہ سخوئی جنگی طیاروں نے خلیج کے پانیوں کے اوپر ایرانی ساحل سے سولہ ناٹیکل میل دور بین الاقوامی فضائی حدود میں ڈرون کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ صرف یہی نہیں بلکہ انھوں نے فائرنگ کے بعد کئی میل تک امریکی ڈرون کا پیچھا بھی کیا تھا۔ امریکا نے اس واقعہ پر ایران سے سفارتی سطح پر احتجاج کیا ہے۔