.

برطانیہ کا شامی باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی پر غور

اوباما کے ری الیکشن سے شامی منظر نامے میں تبدیلی کے امکانات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
برطانوی حکومت نے شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف لڑنے والے باغیوں کو اسلحے کی فراہمی پر عائد پابندی اٹھانے پر غور شروع کیا ہے تاکہ شام میں تحریک انقلاب کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے اور بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے میں مدد ملے سکے۔

ڈیوڈ کیمرون حکومت کی جانب سے شامی باغیوں کی فوجی مدد کے بارے میں تازہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانوی وزیر اعظم مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں اور امریکا میں براک اوباما دوسری مرتبہ چار سال کےلیے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ امریکا میں تازہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد شام کے سیاسی اور انقلابی منظر نامے میں بڑی تبدیلیوں کی توقعات کی جا رہی ہیں۔



اخبار 'گارجیئن' کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے شام کے دوست ممالک سے رابطے شروع کیے ہیں تاکہ یورپی یونین کی جانب سے باغیوں کی فوجی امداد پر عائد پابندی اٹھائی جا سکے۔ یہ اقدامات امریکا کے لیے ایک قسم کا دباؤ ہے کہ وہ بھی شام کے مسئلے کو اولین ترجیحات میں شامل کرے۔



رپورٹ کے مطابق لندن حکومت کے سینئر عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کیمرون بشار الاسد کو 'مذاکرات کی میز' پر لانے کے لیے ان پر دباؤ بڑھانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنا چاہتے ہیں تاکہ مسئلے کے سیاسی حل کے لئے دباؤ بڑھے۔



ذرائع کا کہنا ہے کہ برطانوی قومی سلامتی کمیٹی پیش آئند ہفتے ایک اہم اجلاس منعقد کر رہی ہے جس میں شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں مزید تجاویز پیش اور منظور کی جائیں گی۔ اجلاس میں وزیر اعظم کیمرون کے دورہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن کے تناظر میں شام کے بارے میں نئی پالیسی بھی وضع کی جائےگی۔ یہ امکان ہے کہ لندن حکومت شامی باغیوں کومسلح کرنے کی حمایت کرے گی۔



خیال رہے کہ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کی شامی باغیوں کو مسلح کرنے کی حالیہ مہم جوئی ایک ایسے وقت میں منظر عام پر آئی ہے جب شام میں باغیوں اور اسد نواز فوج کے درمیان جنگ اب صدارتی محل تک جا پہنچی ہے۔ دو روز قبل شامی باغیوں کا فائر کردہ ایک میزائل دمشق میں صدارتی محل کے قریب گرا ہے۔ اس سے باغیوں کی بڑھتی دفاعی اور جنگی صلاحیت کا بخوبی اندازہ ہو رہا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم کے دفتر کے ایک دوسرے ذریعے کے مطابق ڈیوڈ کیمرون نے شام کے عسکری گروپوں سےبراہ راست رابطوں کی اجازت دے دی ہے تاہم انہیں مسلح کرنے میں مدد فراہم کرنےکا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔