.

زخمی موریتانوی صدر کے صاحبزادے نے زمام کار اپنے ہاتھ میں لے لی؟

احمد بن عبدالعزیز کے اقدام پر میڈیا کی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

موریتانیہ کے صدر محمد ولد عبدالعزیز کے بیٹے احمد ولد عبدالعزیز نے اپنے والد [اول الذکر] کی علالت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومتی زمام کار خود ہی اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔

صدر محمد ولد عبدالعزیز گزشتہ ماہ اپنی ہی فوج کے ایک فرینڈلی فائر سے زخمی ہو گئے تھے۔ انہیں بعد ازاں علاج کے لئے بیرون ملک جانا پڑا۔ والد کی غیر موجودگی میں ان کے بیٹے کے وارے نیارے ہو گئے ہیں اور وہ بزعم خود اقتدار سنبھالنے کے لئے پرتول رہے ہیں۔



دوسری جانب ملکی ذرائع ابلاغ نے احمد ولد عبدالعزیز کے اس اقدام پر سخت تنقید بھی شروع کر رکھی ہے، تاہم صدر کے متوقع جانشین نے اپنی باضابطہ تاج پوشی سے قبل ہی حکومت کے بیشتر امور اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں۔



موریتانوی میڈیا کے مطابق احمد ولد عبدالعزیز اپنے والد کی جگہ ایوان صدر میں بیٹھتے ہیں اور حکومتی امور کی نگرانی کر رہے ہیں۔ احمد کے اس طرز عمل پر سیاسی اور ابلاغی حلقے سخت تنقید بھی کر رہے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر کے فرزند لیبیا کے مقتول لیڈر کرنل معمر قذافی کے صاحبزادے سیف الاسلام قذافی کی راہ پر چل رہے ہیں۔ صدر کی اجازت کے بغیر حکومتی معاملات اور ریاستی اداروں میں عمل دخل قانون سے بالا اقدام ہے۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ صدر محمد ولد عبدالعزیز کے اکتوبر میں زخمی ہونے سے قبل ان کے بیٹے کو حکومت میں کونسا عہدہ سونپا گیا تھا۔



مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق احمد ولد عبدالعزیز نے اپنے والد کی عدم موجودگی میں اہم سیاسی اور قومی شخصیات سے ملاقاتیں بھی جاری رکھی ہوئی ہیں اور وہ حکومتی اداروں کو ہدایات بھی جاری کر رہے ہیں۔

موریتانیہ کے بعض اخبارات نے احمد ولد عبدالعزیز پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے اپنے علیل والد کی فرانسیسی ڈاکٹر کے ہمراہ تصاویر چوری کر کے میڈیا تک پہنچائی ہیں تاہم مذکورہ تصویریں عوامی حلقوں میں ابھی تک متنازعہ بنی ہوئی ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تصاویر جعلی ہیں اور احمد ولد عبدالعزیز نے اپنے والد کی علالت کو تشویشناک قرار دینے کے لیے جاری کی ہیں تاکہ ان کی عدم موجودگی میں وہ ایوان حکومت پر قبضہ کر سکیں۔

خیال رہے کہ صدر محمد ولد عبدالعزیز پچھلے ماہ اپنے ایک فارم ہاؤس کے دورے کے بعد واپس لوٹ رہے تھے کہ ایک سیکیورٹی اہلکار کی بندوق سے چلنے والی گولی لگنے سے زخمی ہو گئےتھے۔ اس کے بعد سے وہ بیرون ملک بھی علاج کے لیے گئے تھے۔ ان کی عدم موجودگی میں حکومت کی کمزوری کا تاثر بھی زور پکڑ رہا تھا۔

اس دوران صدر ولد عبدالعزیز کی جانشینی کے لیے آرمی چیف محمد ولد الغزوانی کا بھی نام لیا جاتا رہا ہے۔ فائرنگ کے بعد صدر العزیز کی صحتیابی کے حوالے سے سرکاری سطح پر’سب اچھا ہے‘ کی رپورٹ دی جاتی رہی ہے تاہم صدر کی پردہ پوشی نے ان کی صحت کے بارے میں بہت سے سوالات بھی جنم دیے ہیں۔