.

سابق ایرانی صدر کے صاحبزادے پر جاسوسی اور گھوٹالے کے الزامات

مہدی ہاشمی رفسنجانی پر دوران حراست دل کا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران کی ایک عدالت نے سابق صدر اور گارڈین کونسل کے چیئرمین علی ہاشمی رفسنجانی کے صاحبزادے مہدی ہاشمی رفسنجانی پر ملک کے خلاف جاسوسی اور بدعنوانی سمیت کئی دیگر الزامات کے تحت مقدمہ شروع کیا ہے۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کی سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ مہدی ہاشمی عارضہ قلب میں مبتلا ہونے کے باعث ایک اسپتال میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل ہیں۔ انہیں ملک کے خلاف جاسوسی اور دشمن کو حساس معلومات فراہم کرنے سمیت کرپشن اور دیگر الزامات کا سامنا ہے۔

جوڈیشل کونسل کے ذرائع نے بتایا کہ مہدی ہاشمی کے خلاف دائر مقدمات میں جون 2009ء میں ہوئے صدارتی انتخابات کے بعد ملک میں افراتفری پھیلانے اور اپنے والد کے دور حکومت (1989 تا 1997ء) میں تیل کے ٹھیکوں میں گھپلوں کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔



خیال رہے کہ مہدی ہاشمی رفسنجانی سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کے بعد برطانیہ چلے گئے تھے۔ تین سال کے بعد گذشتہ ستمبر میں انہیں ایک 'ڈیل' کے تحت ایران لایا گیا لیکن تہران پہنچتے ہی انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ مہدی ہاشمی کی گرفتاری سے قبل ان کی ہمشیرہ فائزہ ہاشمی کو بھی تہران پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔



ایرانی عدالت نے 2010ء میں مہدی ہاشمی کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ سن 2011ء میں فائزہ ہاشمی کو حکومت کےخلاف پروپیگنڈے کے الزام میں چھے ماہ کی قید کا حکم دیا گیا تھا۔ دونوں محروس بہن بھائیوں پر سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کے بعد حکومت کے خلاف اشتعال انگیز مہم چلانے اور عوام کو اکسانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔



مہدی ہاشمی کی خرابی صحت کے بعد ان کے والد اور سابق صدر علی ہاشمی رفسنجانی نے جیل میں اپنے بیٹے سے ملاقات بھی کی ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے ہاشمی رفسنجانی کی اپنے صاجبزادے کے ہمراہ ایک تصویر بھی شائع کی ہے۔ ادھر مہدی ہاشمی کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مہدی کے دل کی فوری سرجری کی ضرورت ہے۔