.

ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر امریکا کو سخت کارروائی کی دھمکی

''امریکی ڈرون آئل ٹینکروں کی آمدورفت کی نگرانی کررہا تھا''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کرے گا۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ایسنا' نے اتوار کو پاسداران انقلاب کی فضائی فورسز کے سربراہ جنرل امیر علی حاجی زادہ کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ''ہم نے امریکی ڈرون پر فائر کیا تھا اور یہ انتباہی شاٹس تھے۔ اگر انھوں نے دوبارہ اس طرح کی حرکت کی تو وہ (امریکی) ایک سخت ردعمل کی توقع کر سکتے ہیں''۔

حاجی زادہ نے کہا کہ ''امریکا کا یہ بغیر پائیلٹ جاسوس طیارہ ایران کی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا لیکن پاسداران انقلاب کے جنگی طیاروں کی فوری جوابی کارروائی کے بعد وہ واپس چلا گیا تھا''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''امریکا کا ڈرون طیارہ جزیرہ خارج پر اقتصادی سرگرمی اور آئیل ٹینکروں کی آمدورفت سے متعلق معلومات اکٹھی کرنے کے لیے محو پرواز تھا''۔ واضح رہے کہ جزیرہ خارج ایران کی زمینی حدود سے پچیس کلومیٹر دور واقع ہے اور یہ ایران کی تیل کی برآمدات کا مرکزی ٹرمینل ہے۔



امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ترجمان جارج لٹل نے گذشتہ جمعرات کو اطلاع دی تھی کہ ایران کے روسی ساختہ ایس یو 25 فراگ فُٹ جنگی طیاروں نے یکم نومبر کو بین الاقوامی فضائی حدود میں ڈرون طیارے پر فائر کیا تھا لیکن ان کا نشانہ خطا گیا تھا۔

مسٹر جارج لٹل کے بہ قول ''ایرانی طیاروں نے ڈرون کا پتا چلانے کے بعد اس پر کئی راؤنڈ فائر کیے تھے''۔ان کا کہنا تھا کہ ڈرون ایران کی فضائی حدود میں پرواز نہیں کر رہا تھا اور ایرانی ساحل سے تھوڑا دور بین الاقوامی پانیوں کے اوپر اس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ انھوں نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اپنی فورسز کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔

پینٹاگان کے ترجمان اور دوسرے حکام کے بہ قول ایران کے دو روسی ساختہ سخوئی جنگی طیاروں نے خلیج کے پانیوں کے اوپر ایرانی ساحل سے سولہ ناٹیکل میل دور بین الاقوامی فضائی حدود میں ڈرون کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ صرف یہی نہیں بلکہ انھوں نے فائرنگ کے بعد کئی میل تک امریکی ڈرون کا پیچھا کیا تھا۔ امریکا نے اس واقعہ پر ایران سے سفارتی سطح پر احتجاج کیا ہے۔

ایران کے وزیر دفاع جنرل احمد وحیدی نے جمعہ کو ایک بیان میں امریکی پینٹاگان کے اس دعوے کی تصدیق کی تھی کہ دو ایرانی جنگی طیاروں نے گذشتہ ہفتے خلیج میں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ''گذشتہ ہفتے خلیج فارس میں ایک نامعلوم طیارہ اسلامی جمہوریہ کے پانیوں کے اوپر فضائی حدود میں گھس آیا تھا لیکن مسلح افواج کے بروقت، دانش مندانہ اور فیصلہ کن اقدام کے نتیجے میں وہ بھاگ جانے پر مجبور کر دیا گیا تھا''۔