.

بارکلیز کو قانون کے مطابق لائسنس جاری کیا گیا سعودی اتھارٹی

بنک کے خلاف لائسنس کے حصول میں بدعنوانی کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب کی کیپیٹل مارکیٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ بارکلیز بنک کو مملکت میں کاروبار کے لیے تمام قانونی تقاضے اور شرائط پوری کرنے پر لائسنس کا اجراء کیا گیا تھا۔

العربیہ کو موصول ہونے والے ایک بیان کے مطابق سعودی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ بارکلیز بنک کو اگست 2009ء میں لائسنس جاری کیا گیا تھا اور مئی 2010ء میں اسے سعودی عرب میں کاروباری سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

سعودی اتھارٹی کی جانب سے یہ بیان امریکی حکام کی بارکلیز بنک کے خلاف سعودی عرب میں بنک کاری کی اجازت کے حصول کے لیے مبینہ طور پر غیر قانونی رقوم کی ادائی کے الزام کی تحقیقات کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکی پراسیکیوٹرز کو شُبہ ہے کہ بنک سعودی عرب میں 2009ء میں کاروبار کرنے کے لیے رشوت کے ذریعے لائسنس حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔ سعودی کیپیٹل مارکیٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اسے امریکی تحقیقات کے بارے میں کچھ علم نہیں اور نہ بارکلیز کو لائسنس کے اجراء کے معاملے پر اس سے کسی فریق نے رابطہ کیا ہے۔

برطانوی ملکیتی بارکلیز بنک کا لندن میں ہیڈکوارٹرز قائم ہے اور یہ ذاتی بنک کاری، کریڈٹ کارڈز، کارپوریٹ بنک کاری ،دولت کے انتظام اور سرمایہ کاری بنکنگ میں خدمات مہیا کر رہا ہے اور یہ سعودی کیپیٹل مارکیٹ اتھارٹی کی جانب سے غیر ملکی کمپنیوں کے پر عاید پابندی میں نرمی کے بعد سعودی مملکت میں کاروبار کرنے والے چند ایک مغربی بنکوں میں سے ہے۔

امریکی حکام کی بارکلیز بنک کے خلاف تحقیقات میں اس بات کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ آیا اس کی جانب سے لائسنس کے حصول کے لیے ادا شدہ رقم امریکا کے غیر ملکی کرپٹ پریکٹیسز ایکٹ (ایف سی پی اے) کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں۔

ایف سی پی اے 1977ء میں منظور کیا گیا تھا اور اس کا مقصد امریکا سے وابستہ افراد یا اداروں کی جانب سے دوسرے ممالک میں کاروبار کے لیے اجازت نامے یا لائسنس کے اجراء کے معاملے میں رشوت کی روک تھام ہے۔

گذشتہ ہفتے امریکی حکام نے اس بنک پر غیر قانونی کاروبار کرنےکے الزام میں ساڑھے تین کروڑ ڈالرز جرمانہ عاید کیا تھا۔ اس سے پہلے بنک پر جون میں شرح تبادلہ میں لندن کے انٹربنک ریٹ میں رد وبدل کرنے کے جرم میں دوکروڑ نوے لاکھ ڈالرز جرمانہ عاید کیا گیا تھا۔ اس بنک کا کہنا ہے کہ وہ امریکی حکام سے ایف سی پی اے کے تحت تحقیقات میں تعاون کر رہا ہے۔