.

جنسی اسکینڈل کی خبر نشر ہونے پر بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل مستعفی

عہدہ سنبھالے صرف دو ماہ ہوئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
برطانوی نشریاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل جارج انٹویسل نے کنزرویٹو پارٹی کے سیاستدان سے متعلق جنسی زیادتی پر مبنی غلط تحقیقاتی رپورٹ نشر ہونے پر اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔

ٹی وی پر نشر بیان میں انٹویسل کا کہنا تھا کہ 'ایسے میں سب سے زیادہ مناسب بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو جاؤں۔ میں ادارے کا ڈائریکٹر جنرل اور ایڈیٹر انچیف ہوں، ادارے پر نشر ہونے والے ہر پروگرام کے مندرجات میری ذمہ داری ہیں۔'

انہوں نے واضح کیا کہ 'گزشتہ چند ہفتوں میں رونما ہونے والے غیر معمولی حالات کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ 'بی بی سی' اپنا نیا ڈائریکٹر تلاش کریں'۔ انٹویسل نے امسال ستمبر میں بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ سنبھالا تھا۔

یاد رہے کہ بی بی سی نے اپنے پروگرام 'نیوز نائٹ' میں ایک گواہ نے بیان دیا تھا کہ کنزرویٹو پارٹی کے سابق اعلی عہدیدار نے اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ ادارے کے ہفتہ وار پروگرام میں اگرچہ سابق سیاستدان کا نام نشر نہیں کیا گیا تھا تاہم انٹرنیٹ بلاگز اور برطانوی اخبار 'گارجین' نے اس معاملے میں سابق وزیر مالیات الیسٹر میک البین کا نام شائع کیا تھا۔ اخبار نے سیاستدان کے خلاف صرف ایک ہی گواہ کی وجہ سے معاملے کو مشکوک قرار دیا ہے۔

سابق وزیر البین نے پروگرام میں لگائے گئے الزام کو 'خطرناک قذف' سے تعبیر کرتے ہوئے ہاؤس آف لارڈز میں 'میڈیا کے پاگل پن' پر کڑی تنقید کی۔ درایں اثنا وزیر موصوف کے وکیل نے اعلان کیا کہ وہ ان بے بنیاد معلومات کی ترویج میں ملوث تمام اداروں بشمول 'بی بی سی' پر مقدمہ کریں گے۔