.

لیبیا سابق وزیر اعظم کے خلاف سوموار سے ٹرائل کا آغاز

بغدادی المحمودی پر ماورائے عدالت اقدامات کے الزامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لیبیا کے سابق مقتول صدر معمر قذافی کے دورحکومت میں آخری وزیر اعظم بغدادی علی المحمودی کے خلاف ماورائے عدالت اقدامات اور مبینہ جنگی جرائم کے الزامات کے تحت قائم کیے گئے مقدمے کی سماعت کا سوموار سے آغاز ہو رہا ہے۔

لیبیا کے پراسیکیوٹر کے ترجمان طہٰ براء نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''البغدادی المحمودی پہلے کیس کے سلسلہ میں کل عدالت میں پیش ہوں گے۔ ان کے خلاف ریاست کی سکیورٹی کے خلاف ماورائے عدالت اقدامات پر الزامات عاید کیے گئے ہیں''۔

ستر سالہ بغدادی المحمودی پانچ مارچ 2006ء سے اگست 2011ء تک لیبیا کی جنرل پیپلز کمیٹی کے سیکرٹری رہے تھے اور یہ عہدہ ملک کے وزیر اعظم کے مساوی ہوتا ہے۔ وہ اگست 2011ء میں کرنل معمر قذافی کی اقتدار سے رخصتی اور دارالحکومت طرابلس اور ان کے اقتدار کی علامت باب العزیزیہ کمپاٶنڈ پر باغیوں کے قبضے تک اس عہدے پر فائز رہے تھے۔

وہ اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد 21 ستمبر 2011ء کو تیونس فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے اور تیونس نے 24 جون کو انھیں ان کے ملک کے حوالے کر دیا تھا۔ اب ان کے خلاف دارالحکومت طرابلس کی ایک عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ لیبیا کے سابق وزیر اعظم کو تیونس کے الجزائر کی سرحد کے ساتھ واقع جنوب مغربی علاقے میں غیر قانونی داخلے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور انھیں اس الزام میں وہاں چھے ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

تیونس کی ایک عدالت نے نومبر 2011ء میں لیبیا کے سابق وزیر اعظم کو ملک بدر کرنے کے فیصلے کی توثیق کی تھی جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا تھا کہ اگر انھیں لیبیا کے حوالے کیا گیا تو انھیں وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بغدادی المحمودی اور مقتول کرنل قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی )کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں اور انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ کرنل قذافی کے سابق باغی جنگجوؤں اور موجودہ سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں وحشیانہ انداز میں قتل اور ان کی لاش کی بے حرمتی کے بعد انھیں اس بات کا یقین نہیں کہ لیبیا کی عدالتوں میں ان کے بیٹے، سابق وزیر اعظم اور دوسرے عہدے داروں کے خلاف انصاف کے عالمی معیار کے مطابق مقدمہ چلایا جائے گا۔

بغدادی المحمودی نے جون میں طرابلس حکومت کے حوالے کیے جانے کے ایک ہفتے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''میں قصور وار نہیں ہوں''۔ لیبی حکام نے ان سے جیل میں صحافیوں کی ملاقات کا اہتمام کیا تھا اور اس کا مقصد ان افواہوں کا توڑ کرنا تھا کہ انھیں لیبیا میں ان کی آمد کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ''میں لیبی عوام کے روبرو مقدمے کا سامنا کرنے کو تیار ہوں۔ مجھے اپنے بے گناہ ہونے کا مکمل یقین ہے''۔

جب لیبی صحافیوں نے ان سے سوال کیا کہ انھوں نے آخر وقت تک کرنل قذافی کا ساتھ کیوں نہیں چھوڑا تھا تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ''میں اس کا جواب عدالت میں دوں گا اور اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کا دفاع کروں گا''۔