.

ابو الھول کا مجسمہ اور اہرام مصر منہدم کر دیئے جائیں

اللہ کے نبی بت شکنی کے لئے آئے: مصر کے جہادی رہنما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی دعوت سلفی جہاد تنظیم کے رہنما مرجان سالم الجوھری نے نجی ٹی وی 'ڈریم' سے بات کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں ابو الھول کے مجسمے سمیت اہرام مصر کو منہدم کر دیا جائے۔

الشیخ الجوہری کا کہنا تھا: 'مصری مسلمانوں شرعی لحاظ سے ملک کے طول وعرض میں بت شکنی کے پابند ہیں۔ اس لئے فوری طور پر ابو الھول اور اہرام مصر کو مسمار کیا جائے کیونکہ اللہ کے سوا بتوں کی عبادت گناہ عظیم ہے۔'

سلفی رہنما کا کہنا تھا کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بت شکنی کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب میں طالبان کے شانہ بشانہ جہاد کر رہا تھا تو ہم نے افغانستان میں بدھا کے مسجمے خود تباہ کئے کیونکہ حکومت ایسا کرنے میں پس و پیش سے کام لے رہی تھی۔

ڈریم ٹی وی کے پروگرام میں شریک صحافی نبیل شرف الدین نے سلفی رہنما کے اس نقطہ نظر کی ایک تاریخی حوالے سے تردید کرتے ہوئے بتایا کہ فاتح مصر صحابی عمرو بن العاص جب مصر داخل ہوئے تو انہوں نے بت شکنی نہیں کی کیونکہ یہ معاملہ عبادت سے متعلق تھا۔ اس وقت بتوں کی پوجا نہیں ہوتی۔ یہ انسانی میراث ہے جو تمام مصریوں کی اجتماعی پراپرٹی کا درجہ رکھتی ہے۔ ہم کسی کو اس تاریخی میراث کو تہہ و بالا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

پروگرام کے دوران ٹیلی فون پر اپنے تبصرے میں تیونس کی تحریک نہضت اسلامی کے نائب صدر الشیخ عبدالفتاح مورو نے الشیخ الجوہری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آپ ایسا کرنے والے کون ہوتے ہیں۔ کیا سیدنا عمرو بل العاص رضی اللہ تعالی عنہ نے مصر داخلےے پر بت توڑے؟"

الشیخ مورو نے کہا کہ نبی آخر الزمان نے اپنے دور میں بت شکنی کا فریضہ اس لئے سرانجام دیا کہ لوگ ان کی عبادت کرتے تھے، تاہم ابو الھول اور اہرام مصر میں اب ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ اس لئے آپ بت شکنی کی کال دیکر خلاف شرع غلطی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔