.

اسرائیلی فوج کی شامی علاقے کی جانب براہ راست گولہ باری

گولان پر گولہ باری کے منبع شامی توپخانے پر حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیلی فوج نے سوموار کو گولان کی پہاڑیوں پر شامی فوج کا فائر کیا گیا گولہ گرنے کے بعد شامی علاقے کی جانب براہ راست فائرنگ کی ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''گولان کی چوٹیوں پر ایک فوجی چوکی کے علاقے میں ایک گولہ آ کر گرا ہے۔اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ کوئی زخمی ہوا ہے''۔اسرائیلی فوج کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ ''حملے میں شامی فوج کی موبائل آرٹلری (گشتی توپ خانے) کو براہ راست نشانہ بنایا گیا ہے''۔

صہیونی فوج نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ شام کی جانب سے اسرائیل کے زیرقبضہ گولان کی چوٹیوں پر کسی بھی فائر کا سختی سے جواب دیا جائے گا۔

اسرائیلی وزیردفاع ایہود باراک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''شام ایک سال سے زیادہ عرصے سے سفاکانہ خانہ جنگی میں الجھا ہوا ہے اور اسرائیلی فوج کو جنگ کو پھیلنے سے روکنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔شام کی جانب سے اسرائیل پر گولہ باری کا سختی سے جواب دیا جائے گا اور شام کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی''۔

صہیونی فوج نے اتوار کو بھی شامی علاقے کی جانب تموز میزائل فائر کیا تھا لیکن اسے انتباہی فائرنگ کا نام دیا گیا تھا۔اسرائیلی ریڈیو کی اطلاع کے مطابق صہیونی فوج نے 1973ء کی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ گولان کی پہاڑیوں سے شامی علاقے کی جانب فائرنگ کی تھی اوراس علاقے میں قریباً تیس سال کے بعد یہ اس کی پہلی فوجی سرگرمی ہے۔

اسرائیل کے ایک سکیورٹی ذریعے کا کہنا تھا کہ فوجیوں نے شامی فوج کے ایک مارٹر کریو کی جانب میزائل فائر کیا ہے۔اس سے پہلے شامی علاقے سے گولان کی پہاڑیوں کی جانب فائر کیا گیا ایک گولہ یہودی بستی کے نزدیک گرا تھا۔تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

یہ گولہ کرنے کے بعد اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ ''علاقے میں موجود اقوام متحدہ کی فورسز کو شامی فوج کی گولہ باری سے متعلق شکایت کردی گئی ہے۔اس میں یہ واضح کردیا گیا ہے کہ اس صورت حال کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس سے سختی سے نمٹا جائے گا''۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی نگرانی کے لیے سرحدی علاقے میں مامور اقوام متحدہ کے ایک ہزار اہلکاروں پر مشتمل فورس (یونیفل) نے اس واقعہ اور اسرائیل کی جانب سے دی گئی درخواست کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے گذشتہ روز گولان پر مارٹر حملے سے قبل کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں کہا کہ ''اسرائیل شام کے ساتھ سرحد پر رونما ہونے والے واقعات کا قریب نظری سے جائزہ لے رہا ہے اور وہ کسی بھی پیش رفت کے لیے تیار ہے''۔

گذشتہ جمعرات کو بھی شام کے سرحدی علاقے میں سرکاری فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کے دوران فائر کیا گیا ایک مارٹر بم اسرائیل کے زیرقبضہ گولان کی پہاڑیوں پر آکر گرا تھا۔یہ بم پھٹ نہیں سکا تھا جس کی وجہ سے اس سے کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا تھا۔



واضح رہے کہ اسرائیل کے زیرقبضہ گولان کی پہاڑیوں کے نزدیک واقع شام کے علاقے میں سرکاری فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور گذشتہ ایک ہفتے کے دوران اس علاقے سے فائر کیے گئے گولے سرحد پار جا کر گرے ہیں۔



یادرہے کہ اسرائیل نے شام کے تزویراتی اہمیت کے حامل علاقے گولان کی چوٹیوں پر 1967ء کی جنگ کے دوران قبضہ کر لیا تھا۔دونوں ممالک نے 1974ء میں یوم کپور کی جنگ کے بعد فائربندی کے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے تھے۔اس کے باوجود دونوں ممالک ٹیکنیکل طور پر حالت جنگ میں ہیں۔اسرائیل نے اس علاقے کو 1981ء میں اپنی ریاست میں ضم کرلیا تھا لیکن عالمی برادری نے اس کے اقدام کو تسلیم نہیں کیا تھا۔