.

شامی فوج کے حملے نیٹو اتحاد، ترکی کا دفاع کرے گا

سرحدی علاقے میں شامی فوج کے حملوں میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرس فوگ راسموسین نے کہا ہے کہ فوجی اتحاد تنظیم کے رکن ملک ترکی کو شام کی جانب سے کسی جارحیت کی صورت میں تحفظ مہیا کرے گا۔

انھوں نے یہ بات پراگ میں تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''نیٹو اتحاد بطور تنظیم ترکی کو تحفظ مہیا کرے گا اور اس کا دفاع کرے گا۔ ہم نے ترکی کے دفاع کے لیے مختلف منصوبے ترتیب دیے ہیں اور ہمیں توقع ہے کہ اس طرح ہم ایک سد جارحیت قائم کر سکیں گے، تاکہ ترکی کا دفاع کیا جا سکے گا''۔

راسموسین نے اختتام ہفتہ پر شامی حزب اختلاف کے لیڈروں کے درمیان اختلافات کے خاتمے کے لیے سمجھوتے اور ان کے نئے اتحاد کا خیر مقدم کیا ہے۔

شام کے ایک جنگی طیارے نے ترکی کی سرحد کے نزدیک سوموار کو بھی بمباری کی ہے جس کے نتیجے متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے رپورٹر کی اطلاع کے مطابق شام کے جنگی طیارے نے ترکی کی سرحد سے صرف دس میٹر کے فاصلے پر واقع قصبے راس العین پر بمباری کی ہے۔

مقامی مئیر کے دفتر میں تعینات ایک عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ترکی کی ایمبولینس گاڑیوں کے ذریعے متعدد شامی زخمیوں کو ترکی کے سرحدی قصبے چیلان پینارکے ایک اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔ شامی فوج کی بمباری کے نتیجے میں اس قصبے میں متعدد دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔

شمال مشرقی صوبے الحسکہ میں واقع اس قصبے میں گذشتہ ہفتے جیش الحر نے سکیورٹی فورسز کے تین ٹھکانوں پر دھاوا بول دیا تھا۔ درایں اثناء العربیہ ٹی وی کی اطلاع کے مطابق باغی جنگجوؤں اور فوجیوں پر مشتمل جیش الحر نے مشرقی صوبہ دیر الزور میں واقع الحمدان ہوائی اڈے کے اوپر محو پرواز ایک سرکاری ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔

واضح رہے کہ شامی فوج نے گذشتہ ماہ سرحد پار ترکی کے علاقے آکچاکیل میں گولہ باری کی تھی جس کے نتیجے میں پانچ ترک شہری جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد ترکی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ شام کے خلاف کارروائی کرے۔ قبل ازیں نیٹو نے برسلز میں ایک ہنگامی اجلاس میں شامی فوج کی ترکی کے علاقے میں فائرنگ سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا تھا اور ترکی کو اپنی حمایت کا یقین دلایا تھا۔ تنظیم نے شام پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرے۔