.

مصر دستوری عدالت پر مالی عنایات کے بارے میں حسین طنطاوی سے پوچھ تاچھ

عدالت کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم سے بھی تحقیق ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر میں جمہوری انقلاب کے بعد سب سے زیادہ متاثر سابق حکمران اور ان کے پشتی بان فوجی جرنیل نظر آتے ہیں۔ تحلیل شدہ مصری پیپلز اسمبلی کے ایک رکن کی درخواست پر اٹارنی جنرل عبدالمجید محمود نے مسلح افواج کی سپریم کونسل کے سربراہ ریٹائرڈ فیلڈ مارشل حسین الطنطاوی کے خلاف تحقیق کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست میں انقلاب سے ابتک دستوری عدالت کے بجٹ پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔

اٹارنی جنرل نے سپریم دستوری کونسل کے جج ماہر البحیری اور سابق وزیر اعظم ڈاکٹر کمال الجنزروی سے بھی اسی مقدمے میں تفتیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

کثیر الاشاعت مؤقرعربی اخبار 'الاہرام' کی رپورٹ کے سابق رکن اور تحلیل اسمبلی کی قانونی کمیٹی کے سیکرٹری محمد العمدہ نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ "سن 2012/2013 کے بجٹ کا موازنہ یہ حقیقت آشکار کرتا ہے کہ دستوری عدالت کے ملازمین کی تنخواہوں وغیرہ کی مد میں 14 ملین مصری پاؤنڈ کا اضافہ کیا گیا ہے۔"

مسٹر العمدہ نے اپنی درخواست میں اس امر کی جانب اشارہ کیا ہے کہ دونوں میزانئے فوجی کونسل نے مںظور کئے۔ دستوری عدالت کے رکن تھانی الجبالی، حاتم بجاتو اور محمد عماد النجار عبوری دور میں فوجی کونسل کے ساتھ ہم پیالہ و ہم نوالہ تھے۔ محمد العمدہ نے درخواست کی ہے مرکزی احتساب بیورو عدالت کے میزایئے کی حقیقت جاننے کے لئے کارروائی کرے۔