.

واعظ کے بہیمانہ تشدد سے اپنی بیٹی موت کے منہ میں چلی گئی

مقتولہ کو گرم استری سے داغا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مذہبی اور دیندار لوگوں سے عموماً حسن معاشرت، نیکی اور بچوں کے ساتھ شفقت کی توقع عام لوگوں سے زیادہ کی جاتی ہے۔ یہ توقع اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب کوئی شخص ٹی وی چینلز پر بچوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرے۔ اس کے برعکس سعودی عرب میں ایک عالم دین کے ہاتھوں اپنی بیٹی پر المناک تشدد کا رونگٹے کھڑے کرنے والا ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ ٹی وی چینلز پر نیکی اور حسن معاشرت کے وعظ کرتے نہ تھکنے والے سعودی عالم دین نے اپنی پانچ سالہ معصوم بچی کو نہایت سفاکیت کے ساتھ وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اسے موت میں منہ میں دھکیل دیا۔



العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سے 160 کلومیٹر دور حوطہ بنی تمیم کے علاقے میں حال ہی میں پیش آیا۔ جہاں بیوی کو طلاق کے بعد اس کے بطن سے پیدا ہونے والی اکلوتی بیٹی لمیٰ بھی اپنے والد کی سفاکیت کا نشانہ بنتی رہی اور بالآخر جان کی بازی ہار گئی۔



تشدد کے نتیجے میں مقتولہ بچی کی مطلقہ والدہ نے اس ہولناک واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ طلاق کے بعد عدالت کے حکم پر یہ طے پایا کہ بچی والد کے پاس رہے گی لیکن میں (والدہ) بھی اس سے ہفتے میں کم سے کم ایک دفعہ ملاقات ضرور کروں گی۔ میں معمول کے مطابق بچی سے ملاقاتیں کرتی رہی لیکن ایک دفعہ دو ہفتے گذر گئے اور میرے سابق شوہر نے مجھے بچی سے ملاقات کا موقع نہ دیا۔



میں نے ضلعی پراسیکیوٹر جنرل سے رابطہ کر کے شکایت کی تو پولیس کے ذریعے تفتیش کرنے پر معلوم ہوا کہ پانچ سالہ لمیٰ ایک اسپتال میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل ہے۔ میں اسپتال پہنچی تو بچی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ اس کا ایک ایک انگ ٹوٹ چکا تھا۔ ننھی کلی کے جسم کو گرم استری کے ذریعے جگہ جگہ سے جلھسایا گیا تھا۔ کوڑوں اور بجلی کی تاروں سے کیے گئے تشدد کے نتیجے میں ہاتھ پاؤں اور سر کی کھوپڑی بھی ٹوٹ چکی تھی۔ اسپتال کی جانب سے تیار کردہ میڈیکل رپورٹ میںبھی بتایا گیا ہے کہ بچی کو کئی روز تک نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا جاتا، اسے جلایا اور جلھسایا گیا بلکہ اسے بھوکا پیاسا بھی رکھا گیا ہے۔



مقتولہ کی والدہ کا کہنا ہے کہ الشمیسی اسپتال کی نرسنگ ڈیپارٹمنٹ کی نگراں نے اسے بتایا کہ بچی کی حالت جس نے بھی دیکھی وہ آبدیدہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکا کیونکہ اسے نہایت سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اذیتوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ بچی کی والدہ نے کہا کہ میں نے اپنے سابق شوہر سے بچی کے ساتھ ظلم کے بارے میں بار بار سوال پوچھا تو وہ اس پر کچھ کہنے کے بجائے قہقہے لگاتے اور میری بات کو مذاق میں ٹال دیتے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے قاتل والد کےخلاف قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم انہیں یہ خدشہ بھی ہے کہ سعودی عرب کے قانون میں قاتل والد کو قصاص کی سزا نہیں ہو سکتی۔ اسے محض چند ماہ قید یا کوڑوں کی سزا ہو گی جوکہ قرین انصاف نہیں ہو گی۔