.

برطانیہ ابو قتادہ ضمانت کی منظوری کے بعد جیل سے رہا

عالم دین پر گھر پر 16 گھنٹے کے کرفیو کی پابندی عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
برطانیہ میں اردن سے تعلق رکھنے والے راسخ العقیدہ عالم دین ابو قتادہ کو برطانوی عدالت سے ضمانت منظور ہونے کے ایک روز بعد جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔

راسخ العقیدہ عالم دین کو منگل کی دوپہر برطانیہ کے شہر وورسٹرشائر کی لانگ لارٹن جیل سے رہا کر دیا گیا ہے اور اس کے بعد اپنے گھر کو روانہ ہو گئے تھے۔ ضمانت کی شرائط کے تحت انھیں رہائی کے عرصہ میں اب سولہ گھنٹے کے کرفیو کی پابندی کرنا ہو گی اور وہ صبح آٹھ بجے سے سہ پہرچار بجے کے دوران ہی گھر سے باہر نکل سکتے ہیں۔

ضمانت کی شرائط کے مطابق انھیں عبوری رہائی کے دوران ایک الیکٹرانک ٹیگ پہننا ہوگا۔وہ انَٹرنیٹ بھی استعمال نہیں کرسکیں گے اور بعض لوگوں کے ساتھ روابط بھی نہیں رکھ سکیں گے۔تاہم قانونی وجوہ کی بنا پر ان افراد کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

برطانیہ کے خصوصی امیگریشن اپیلز کمیشن نے سوموار کو اپنے حکم میں قرار دیا تھا کہ وہ اس بات پر مطمئن نہیں کہ اردن ابو قتادہ کے منصفانہ ٹرائل کی ضمانت دے گا۔کمیشن نے یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے جنوری کے فیصلے کی توثیق کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اردن میں تشدد عام ہے اور اس کا ثبوت اس کی عدالتوں میں پیش کیے گئے شواہد سے بھی ملا ہے۔کمیشن کے ججوں نے قرار دیا تھا کہ ابوقتادہ کی ان کے ملک میں واپسی ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔

برطانیہ کے محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ وہ اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرے گا کیونکہ حکومت عدالت کے اس حکم سے بالکل بھی متفق نہیں ہے''۔ابو قتادہ فلسطینی نژاد اردنی عالم دین ہیں۔ان کا حقیقی نام عمر محمود محمد عثمان ہے۔اردن میں 1999ء میں اور 2000ء میں ان کے خلاف دہشت گردی کی سازشوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت ان کی غیر موجودگی میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

برطانوی حکومت کے وکلاء نے ماضی میں ان کا تعلق القاعدہ کے ایک جنگجو زکریا موسوی سے جوڑا تھا۔زکریا پر امریکا میں نائن الیون حملوں کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔ان کے خطبات کی آڈیو ریکارڈنگز گیارہ ستمبر کو طیارے ہائی جیک کرنے والے بعض حملہ آوروں کے جرمنی کے شہر ہمبرگ میں واقع فلیٹ سے ملی تھیں اور انھی سے ان کا القاعدہ سے تعلق جوڑا گیا تھا۔

برطانوی حکام نے اکاون سالہ ابو قتادہ کو پہلی مرتبہ 2001ء میں اردن کے حوالے کرنے کی کوشش کی تھی اور پھر انھیں انسداد دہشت گردی قانون کے تحت 2002ء میں دوبارہ گرفتار کر لیا تھا۔2005ء میں اس قانون کے خاتمے کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔اس کے بعد انھیں نگرانی میں رکھنے کا حکم دیا گیا تھا لیکن انھیں برطانیہ بدری کے خلاف ان کی اپیل کا فیصلہ ہونے تک دوبارہ حراست میں لے لیا گیا تھا۔