.

حرم کعبہ کی حدود میں 4 ملین کبوتر مارنے پر تنازعہ

کبوتروں کی بہتات سے شہریوں کے مسائل میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب میں سینئر اسکالرز کمیٹی کے رکن ڈاکٹر علی عباس حکمی نے حرم کی حدود میں ہزاروں کبوتروں کی موجودگی کے باعث پیدا ہونے والے مسائل کا شرعی احکام کی روشنی جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے اہالیاں مکہ پر زور دیا ہے کہ وہ کبوتروں کو حرم کی حدود میں نہ ماریں بلکہ ان سے نپٹنے کے لئے دوسرے طریقے اختیار کریں۔ اس مقصد کے لئے تیر بہدف نسخہ یہ ہے کہ زائرین کبوتروں کو حرم کے کمپاونڈ میں دانہ دنکا ڈالنے سے احتراز کریں تاکہ پرندوں کی بہتات لوگوں کو نقصان لوگوں کو نقصان نہ پہنچائے۔

مکہ مکرمہ سیکرٹریٹ کے مطابق کبوتروں کی بہتات پر قابو پانے کے لئے شہری انہیں ہلاک کرنے کے مختلف طریقے اختیار کر رہے ہیں کیونکہ یہ پرندے گھروں کو بھی نقصان پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں۔ ادھر میونسپل کمیٹی نے بھی کبوتروں کی بہتات پر قابو پانے کے غیر متنازعہ طریقہ کار تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔

روزنامہ 'عکاظ' کی رپورٹ کے مطابق مقدس دارلحکومت کے باسی اپنے مکانات کی کھڑکیاں بند کر کے کتوبروں کو گھر داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔ بعض لوگوں نے کھڑکیوں پر الیکٹرک وائبریٹرز لگا کر کبوتروں کو بھگانے کا انتظام کیا ہے۔

اہالیاں مکہ حرم کے کبوتروں کو قتل کرنے سے گریز کر رہے ہیں حالانکہ بہتات میں پائے جانے والے یہ پرندے گھروں کا بہت زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔ مکان مالکوں کو اپنے گھر کی دیواروں کو آئے روز پینٹ کرانا پڑتا ہے کیونکہ پرندوں کے فضلے سے در و دیوار بہت جلد خراب ہو رہے ہیں۔

حرم کی حدود میں تقریبا چار ملین کبوتروں کی موجودگی کے بارے میں جامعہ ام القری میں تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر فواز الدھاس کا کہنا ہے یہ کتوبر دراصل ان کبوتروں کی نسل ہے کہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی غار ثور میں پناہ کے وقت موجود تھے۔ ایک دوسری روایت میں انہیں ابابیل کی نسل کا پرندہ گردانا جاتا ہے۔ یہ ابابیل اپنی چونچ میں پتھر بھرے سمندر سے آئے اور انہوں نے کعبہ اللہ کو منہدم کرنے کا مکروہ ارادہ رکھنے والے ابرھہ کے لشکر پر حملہ کیا جس سے وہ ہلاک ہوئے۔

ان کبوتروں کو حمام رب البیت کا لقب دیا جاتا ہے اور اہل مکہ انہیں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ کبوتر ایک گھنٹے میں 70سے 80 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہیں۔ یہ دوسرے کبوتروں میں گھلتے ملتے نہیں۔ ان کی سختی انہیں دوسرے کبوتروں سے ممتاز کرتی ہے۔ یہ گھروں کی چھتوں اور بالکونیوں پر انڈے دیتے ہیں، جس سے ان کی نسل بڑھتی ہے۔