.

مقتول کرنل قذافی کی خاتون باڈی گارڈ کا قاہرہ میں پُراسرار قتل

زھراء کا ماڈلنگ کی جانب رحجان قتل کا باعث؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لیبیا کے سابق مرد آہن کرنل معمر قذافی کی ایک خاتون باڈی گارڈ زھراء البوعیشی کو مصری دارالحکومت قاہرہ میں پر اسرار طور پر قتل کر دیا گیا۔ زھراء کی میت قاہرہ سے ملحقہ شہر نصر سے اس کی رہائش گاہ سے ملی ہے، جسے پولیس نے قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے بھجوا دیا ہے۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مقتولہ زھراء کی بہن نے پولیس کو بتایا کہ زھراء البوعیشی کا فون پانچ دنوں سے مسلسل بند مل رہا تھا۔ فون کی مسلسل بندش کے بعد انہیں شبہ ہوا جس کی بنیاد پر گھر پر جا کر معلوم کیا گیا۔ گھر کے تمام دروازے بند تھے۔ مقامی شہریوں کی مدد سے مرکزی دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے تو زھراء کی خون میں لت پت میت بیڈ روم پڑی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں نامعلوم قاتلوں نے تیز دھار آلے سے ذبح کیا۔





ادھر نصر شہر کے فرسٹ پراسیکیوٹر جنرل احمد شبانہ کے مطابق انہوں نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا ہے تاکہ قتل کے اسباب کا تعین کیا جا سکے۔ مقتولہ کے جسم پر گہرے زخموں کے دس نشان موجود تھے جو تیز دھار آلے سے لگائے گئے تھے۔ ضلعی پراسیکیوٹر جنرل نے مقتولہ کی میت کا پوسٹ مارٹم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ امید ہے زھراء البوغیشی کے قتل کے اسباب کا جلد تعین کر لیا جائے گا۔

ماڈلنگ کی طرف رحجان قتل کا موجب؟

قاہرہ کے سیکیورٹی حکام جنگی بنیادوں پر مقتولہ زھراء البوعیشی کے قتل کا سراغ لگانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اب تک کی تحقیقات کے مطابق اس گھناؤنی واردات کا کوئی ٹھوس سبب تو سامنے نہیں آیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ قتل کا کوئی سیاسی سبب نہیں اور نہ ہی یہ چوری یا ڈاکے میں انتقامی کارروائی لگتی ہے بلکہ یہ ایک فوجداری نوعیت کا کیس ہے۔

اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ گھر میں تمام قیمتی چیزیں موجود ہیں۔ مکان کے ایک سیکیورٹی گارڈ کا کہنا ہے کہ واقعے سے کچھ دیر قبل مقتولہ کے بھائی اس گھر میں آئے تھے۔ مقتولہ کے بھائی نے سختی سے سیکیورٹی گارڈ کو منع کیا تھا کہ وہ شام پانچ بجے تک اندر داخل نہ ہو اور نہ کسی اور کو آنے دے کیونکہ وہ اس دوران آرام کرے گا۔ بعد ازاں وہ لیبیا روانہ ہو گیا۔

سیکیورٹی گارڈ کے بیان کے مطابق پولیس نے یہ شبہ ظاہر کیا ہے کہ زھراء کے قتل میں اس کا بھائی ہی ملوث ہو سکتا ہے کیونکہ مقتولہ کے اہل خانہ کی جانب سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ وہ ماڈلنگ کی طرف رُحجان رکھتی تھی جبکہ اس کا بھائی اسے شو بز میں جانے سے سختی سے منع کرتا رہا ہے۔ دونوں کے درمیان اس معاملے میں سخت اختلافات پائے جاتے رہے ہیں۔

مصری اخبار 'الفجر' کی رپورٹ کے مطابق ضرورت پڑنے پر انٹرپول کے ذریعے مقتولہ کے بھائی کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ اخبار نے بتایا کہ اس بات کئی شواہد موجود ہیں جن میں قتل کے اشارے مقتولہ کے بھائی کی طرف جاتے ہیں۔