.

امریکا میں سعودی طالب علم کو دہشت گردی کے الزام میں عمر قید کی سزا

ملزم سابق صدر بش اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا چاہتا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکا میں سعودی طالب علم خالد الدوسری کو دہشت گردی کی کوشش اور دھماکا خیز مواد حاصل کرنے کے الزام میں عمر قید کی سزاء سنائی گئی ہے۔ یہ سزا ریاست ٹیکساس کے شہر اماریلو کی مقامی عدالت نے سنائی ہے۔



تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ خالد الدوسری کی امریکا آمد حصول تعلیم نہیں تھا بلکہ وہ سابق صدر جارج ڈبلیو بش کو قتل اور ایگر اہم تنصیبات پر تباہ کن حملے کرنا چاہتا تھا۔ عدالت سے سزا سے پہلےاس پر دھماکا خیز مواد اور سابق صدر جارج بش کی ڈالاس شہر میں رہائش گاہ کا مکمل پتہ حاصل کر کے دہشت گردی کی منصوبہ بندی کا الزام ثابت کیا گیا۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گزشتہ روز ٹیکساس کی عدالت کے روبرو خالد الدوسری کو پیش کیا گیا۔ گرفتاری کے بعد حراست میں اس کی وضع قطع کافی حد تک تبدیل ہو چکی ہے۔ بائیس سالہ الدوسری کے سر کے بال اور داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور اس کا وزن کافی کم ہو چکا ہے۔ جج کے فیصلہ سنائے کے وقت وہ مکمل خاموش رہا۔



خیال رہے کہ ٹیکساس پولیس نے خالد الدوسری کو فرروی 2011ء کو گرفتار کیا۔ دوران حراست اسے کئی مرتبہ عدالت میں بھی پیش کیا گیا ہے۔ الدوسری کے خلاف جوڈیشل کارروائی کے آغاز کے وقت وکلاء صفائی نے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا کہ الدوسری ذہنی اور نفسیاتی طور پر کیس کا سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے سماعت جاری رکھی، تاہم درخواست پر ملزم کا جیل ہی کے ایک میڈیکل سینٹر میں چیک اپ کرایا گیا جس میں اسے مکمل طور پر فِٹ قرار دیا گیا تھا۔



عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا: "خالد الدوسری کے خلاف عمر قید کی سزاء کے کافی شواہد مل چکے ہیں۔ ان سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی ہے کہ ملزم نے امریکا میں اہم شخصیات کو نشانہ بنانے اور حساس تنصیبات پر حملوں کے لیے کیمیائی مواد سے بم تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی تھی۔ اس کے علاوہ ملزم کے قبضے سے ملنے والی دستاویزات اور کمپیوٹر ریکارڈ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ جہاد کا حامی ہے۔ اس نے سابق صدر جارج ڈبلیو بش کا بھی تعاقب کیا اور عراق کی ابو غریب جیل میں تعینات تین امریکی فوجی افسروں کو بھی تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔"