.

شمالی کوریا سے شام بھیجے گئے میزائل پارٹس جنوبی کوریا میں ضبط

اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شمالی کوریانے اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مئی میں بیلسٹک میزائلوں کے حصے شام کو برآمد کرنے کی کوشش کی تھی۔

اس بات کا انکشاف جاپانی میڈیا نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے کیا ہے اور انھوں نے اقوام متحدہ کی ایک خفیہ رپورٹ کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ جنوبی کوریا کے حکام نے شام کی جانب ایک چینی مال بردار جہاز پربھیجے گئے شمالی کوریا کے سامان کا معائنہ کیا تھا اور اس میں رکھے گئے گریفائٹ کے سیکڑوں سلنڈروں کو ضبط کرلیا تھا۔ان سلنڈروں کو ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کیا جاسکتا تھا۔

جاپانی روزنامے اساہی شمبون کی اطلاع کے مطابق جنوبی کوریا نے جون میں اقوام متحدہ کی شمالی کوریا پر پابندیاں عاید کرنے کی ذمے دار کمیٹی کو اس معاملے کی اطلاع دی تھی اور اس نے اپنے ماہرین کو ضبط کیے گئے سامان کا معائنہ کرنے کے لیے بھیجا تھا۔

اگر شمالی کوریا کے اس اقدام کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ اس پر فوجی اور اسلحے سے متعلق مواد کی تجارت پر عاید اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی ہوگی۔یادرہے کہ شمالی کوریا پر2006ء میں جوہری بم اور میزائلوں کے تجربات کے بعد یہ پابندیاں عاید کی گئی تھیں۔

جاپان کی کیوڈو نیوزایجنسی نے اقوام متحدہ کے سفارت کاروں کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ چارسو پینتالیس گریفائٹ سلنڈر چین میں رجسٹرمال بردار بحری جہاز کے ذریعے بھیجا گیا تھا۔اس کی جائے منزل شام تھی۔

اخبار اساہی نے لکھا ہے کہ جنوبی کوریا نے پانچ سو پینتیس سلنڈروں کو ضبط کیا تھا۔انھیں لیڈ پائپ کے طور پر چھپایا گیا تھا اور ان کا بیلسٹک میزائلوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

کیوڈو کی اطلاع میں بتایا گیا ہے کہ ''یہ تمام تفصیل شمالی کوریا پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کے ارکان کو اسی ماہ پیش کی گئی رپورٹ میں درج ہے''۔شمالی کوریا نے بظاہر اپریل میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک صدارتی بیان کی منظوری کے بعد اسلحہ برآمد کرنے کی کوشش کی تھی۔اس بیان میں اپریل میں شمالی کوریا کی جانب سے سیٹلائٹ چھوڑنے کے ناکام تجربے کے بعد سخت پابندیاں عاید کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

شمالی کوریا کی جانب سے شام کو بھیجے گئے گریفائٹ سلنڈروں کو جنوبی کوریا کی بوسان بندرگاہ پر چینی مال بردار جہاز ژن یان تائی سے پکڑا گیا تھا۔ان کو راکٹوں کی نوزلز کے لیے استعمال کیا جاسکتا تھا۔

کیوڈو کی رپورٹ کے مطابق یہ بحری جہاز 2005ء میں بنا تھا اور شنگھائی میں رجسٹر کیا گیا تھا۔یہ شنگھائی جہاز راں کمپنی کا ملکیتی ہے۔اس سے چین کی جانب سے شمالی کوریا پر عاید پابندیوں پر عمل درآمد کے حوالے سے بھی سوالات پیدا ہوسکتے ہیں۔

اس تمام معاملے کی عبوری رپورٹ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک برطانیہ ،امریکا، روس ،چین اور فرانس کے علاوہ جاپان اور جنوبی کوریا کے ماہرین نے تیار کی ہے۔اس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ یوکرائنی حکام نے شمالی کوریا کے دوایجنٹوں کو بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کرنے کی تصدیق کی ہے۔ان دونوں افراد نے اس سابق سوویت ریاست سے حساس ٹیکنالوجی چوری کرکے شمالی کوریا منتقل کرنے کی کوشش کی تھی۔اب اقوام متحدہ کا پینل اس معاملے کی مزید تحقیقات کررہا ہے۔