.

فرانس نے شامی حزب اختلاف کے نئے اتحاد کو تسلیم کر لیا

یورپی ممالک میں سب سے پہلے اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فرانس نے یورپی ممالک میں سب سے پہلے شامی حزب اختلاف کے نو تشکیل شدہ اتحاد کو شامی عوام کا حقیقی نمائندہ تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے پیرس میں منگل کو ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ''میں آج فرانس کی جانب سے شامی قومی کونسل کو شامی عوام کا حقیقی نمائندہ اور مستقبل میں ایک جمہوری شام کی حکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔ اس سے بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے میں مدد ملے گی''۔

انھوں نے کہا کہ ''نیا شامی اتحاد مستقبل میں ایک عارضی حکومت کے طور پر کام کرے گا اور شامی حزب اختلاف کو اسلحہ مہیا کرنے کے معاملے پر بھی نظر ثانی کی جائے گی''۔ واضح رہے کہ فرانس ماضی میں شامی صدر کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے جنگجوؤں کو اسلحہ مہیا کرنے کی مخالفت کرتا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''اس مسئلہ پر نہ صرف فرانس میں نظر ثانی کی جائے گی بلکہ اس حکومت کو تسلیم کرنے والے تمام ممالک بھی ایسا کریں گے''۔

فرانس شامی حزب اختلاف کے وسیع تر قومی اتحاد کو تسلیم کرنے والا یورپی یونین کا پہلا رکن ملک ہے۔ تاہم اس کے اتحادی برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ ابھی شامی قومی کونسل کو شام کے اندر حاصل عوام کی حمایت سے متعلق مزید شواہد کا جائزہ لے گا اور اس کے بعد وہ اس کو جلاوطن حکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کرے گا۔

امریکا نے شامی حزب اختلاف کے نئے اتحاد کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے لیے اس اتحاد کے ساتھ مل کام کرے گا۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن نے شامی حزب اختلاف کے مختلف گروپوں کے نئے اتحاد کا خیر مقدم کیا ہے۔ انھوں نے اس امر کا اظہار قاہرہ میں عرب لیگ اور یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر کیا۔ انھوں نے کہا کہ نیا اتحاد شامی عوام کا حقیقی نمائندہ ہے اور وہ صدر بشار الاسد کے مخالف دوسرے دھڑوں کو بھی اپنی صف میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

عرب لیگ اور چھے عرب ممالک پر مشتمل خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے گذشتہ روز حزب اختلاف کے نئے بلاک کو شامی عوام کے حقیقی نمائندہ کے طور پر تسلیم کر لیا تھا۔ ان دونوں تنظیموں نے عالمی برادری سے اپیل کی تھی کہ وہ شامی قومی کونسل کو تسلیم کریں۔

قبل ازیں فرانس نے کہا تھا کہ وہ شامی حزب اختلاف کے نئے اتحاد کی مدد کرے گا۔یہ یقین دہانی فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فابئیس نے قاہرہ میں نئے شامی اتحاد کے لیڈروں سے ملاقات کے دوران کرائی ہے۔ مسٹر فابئیس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ متحد ہو گئے ہیں اور یہ بات اہم ہے کہ فرانس ان کی مدد کرے۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اتوار کو شامی حزب اختلاف کے مختلف گروپوں نے کئی گھنٹے کی مسلسل بات چیت کے بعد نئی قومی کونسل کی تشکیل سے اتفاق کیا تھا اور اعتدال پسند عالم دین احمد معاذ الخطیب کو اس کا سربراہ بنایا گیا تھا۔

احمد معاذ الخطیب نے یورپی ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ ان کی قومی کونسل کو شامی عوام کے حقیقی نمائندہ کے طور پر تسلیم کریں اور اس کی مالی مدد کریں۔ اس سے وہ ایک حکومت کے طور پر کام کرسکے گی اور ہتھیار حاصل کر سکے گی۔

انھوں نے برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز سے ٹیلی فون کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''جب ہمیں سیاسی طور پر تسلیم کر لیا جائے گا تو اس سے نیا اتحاد ایک حکومت کے طور پر کام کر سکے گا، دوسرے ممالک سے ہتھیار حاصل کر سکے گا اور اس سے ہمارے مسائل بھی حل ہو سکیں گے''۔