.

مصر کی بیلے ڈانسر کا اسلامی سیاسی جماعتوں کے خلاف انوکھا احتجاج

ہاتھ میں آم اور استرے پکڑ کر اخلاق باختہ رقص کا مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کی سلفی اسلامی جماعت کے ایک سابق رکن کی بیوی ہونے کی دعوے دار بیلے ڈانسر نے ملک میں اسلامی سیاسی جماعتوں کے اقتدار اور ان کے زور پکڑنے کے خلاف انوکھے انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ فحش انداز میں رقص کرنے والی اس مغنیہ کی نئی وڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ ہاتھ میں آم اور استرے پکڑ کر اپنے 'فن' کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

اس متنازعہ فن کارہ نے حال ہی میں صحافیوں کے مبینہ حملوں کے خلاف قاہرہ میں احتجاج کی دھمکی دی تھی۔ وہ اپنی نئی وڈیو میں بڑے بے باکانہ انداز میں ڈانس کر رہی ہے اور اشاروں کنایوں میں سیاسی پیغام دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

مغنیہ نے صدر محمد مرسی کو وعدوں کی بر وقت پاسداری نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ واضح رہے کہ جون میں کامیابی کے بعد منصب صدارت سنبھالنے والے مصری صدر نے اپنے پہلے سو دن کے لیے منصوبے کے پہلے مرحلے کا اعلان کیا تھا۔

اس کے تحت انھوں نے سکیورٹی کی صورت حال کو بہتر بنانا، ٹریفک کے ازدحام، ایندھن اور بریڈ کی قلت پر قابو پانا تھا اور عوام کی حفظان صحت کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنا تھے لیکن بہت سے مصریوں کا خیال ہے کہ صدر محمد مرسی اپنے وعدوں کی پاسداری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

سما المصری اپنے ہاتھوں میں آم پکڑ صدر محمد مرسی کے ایک حالیہ بیان کا مضحکہ اڑانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ صدر نے پھلوں کی لاگت اور قیمت فروخت کے حوالے سے بیان دیا تھا۔ ان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پھلوں کی قیمتیں کچھ کم ہوئی ہیں۔

بیلے رقص کے دوران مغنیہ نے ایک موقع پر ہاتھوں میں استرے پکڑ رکھے ہیں اور وہ کہتی ہے کہ وہ ٹھگوں سے نہیں ڈرتی۔ وہ اس طرح ملک میں ٹھگ بازی کی وارداتوں میں اضافے اور ملک میں امن وامان کی تشویشناک صورت حال کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔

سما المصری اس سال کے آغاز میں مصری میڈیا کی شہ سرخیوں کا اس وقت موضوع بنی تھیں جب یہ انکشاف ہوا تھا کہ وہ سخت گیر سلفی جماعت حزب النور کے ایک رکن پارلیمان أنور البلكيمی کی اہلیہ ہیں لیکن ان کے شوہر نامدار کو شادی کا یہ مبینہ اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد پارلیمان اور جماعت کی رکنیت سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔

أنور البلكيمی نے دعویٰ کیا تھا کہ انھیں قاہرہ اور اسکندریہ کے درمیان ہائی وے پر سفر کے دوران لوٹ لیا گیا تھا اور ان کے چہرے پر زخم آئے تھے جس کی وجہ سے انھیں آپریشن کے عمل سے گزرنا پڑا ہے لیکن ان کی جماعت کا کہنا تھا کہ انھوں نے غیر ضروری طور پر کاسمیٹک سرجری کرائی تھی۔

سما المصری نے اس اسلامی رکن پارلیمان سے طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ انھیں خفیہ شادی کو افشا کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں لیکن أنور البلكيمی نے اس مغنیہ سے خفیہ شادی سے متعلق تمام رپورٹس کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ انھوں نے اس عورت سے کوئی شادی نہیں رچائی تھی۔