.

ایرانی خواتین کا بیرون ملک سفر مشکل بنا دیا گیا

پاسپورٹ کے لئے کئی پاپڑ بیلنا ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی نے خواتین کے بیرون ملک سفر کو کڑی شرائط کا پابند بناتے ہوئے متعلقہ اداروں کو حکم دیا ہے کہ 40 برس سے کم عمر ایرانی خواتین کو پاسپورٹ جاری نہ کیا جائے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چالیس برس سے کم عمر خواتین کو پاسپورٹ کا اجراء شوہر کی مواقفت، ولی الامر [والد اور دادا] کی رضامندی کے بغیر نہیں ہو سکے گا۔ غیر شادی شدہ خواتین جن کے والد یا دادا حیات نہیں وہ حاکم الشرع یعنی ولی الفقیہ علی خامنہ ای کی تحریری اجازت کے بغیر پاسپورٹ نہیں بنوا سکیں گی۔

قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان حسین نقوی نے بتایا کہ مجاز فورم نے 'پاسپورٹ کے اجرا' سے متعلق قانون میں ترمیم کی تجویز دی ہے کہ اٹھارہ برس عمر کی شادی شدہ خواتین اپنے شوہر جبکہ کنواری دوشیزائیں ولی الامر کی تحریری اجازت کے بغیر پاسپورٹ نہیں بنوا سکیں گی۔

کمیٹی کی سفارش کو باقاعدہ قانون بنانے کے لئے پارلیمنٹ سے اس کی منظوری درکار ہو گی۔ قانون میں مجوزہ ترمیم کی وجہ بیان کرتے ہوئے کمیٹی کی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ایرانی خواتین کے بیرون ملک سے قومی سلامتی کو درپیش خطرات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ قانون منظور ہونے پر تہران اور بین الاقوامی غیر حکومتی تنظیموں کے درمیان ایک نیا تنازعہ کھڑا ہونے کا اندیشہ ہے۔

یاد رہے کہ ایرانی خواتین کو ملک میں سیاسی اور معاشرتی حقوق حاصل ہیں۔ وہ اعلی حکومتی عہدوں سمیت پارلیمنٹ اور عدلیہ میں اپنی نمائندگی رکھتی ہیں لیکن ان کے بیرون ملک سفر کو متعلقہ سیکیورٹی ادارے قومی سلامتی کے لئے خطرا سمجھتے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ میں بنیاد پرستوں اور قدامت پسند متشدد حلقوں کی اکثریت ہے اور وہ حالیہ چند دنوں سے خواتین کے بیرون ملک سفر پر کڑی پابندیاں لگانے کے مطالبات کرتے چلے آ رہے ہیں تاکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی 'ساکھ' کا تحفظ کیا جا سکے۔