.

فرانس شامی باغیوں کو اسلحہ مہیا کرنے پرغور کرے گا

روس نے جنگجوؤں کو مسلح کرنے کی مخالفت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فرانسی وزیر خارجہ لوراں فابئیس کا کہنا ہے کہ ان کا ملک شامی حزب اختلاف کے نئے اتحاد کے قیام کے بعد صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں کو اسلحہ مہیا کرنے کے لیے اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ بات چیت کرے گا۔

فرانسیسی وزیرخارجہ نے جمعرات کو آر ٹی ایل ریڈیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ''ان کا ملک شام میں گذشتہ بیس ماہ سے جاری تنازعے کو فوجی رنگ دینے کا مخالف رہا ہے لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ باغیوں کے قبضے میں آنے والے علاقوں پر بم حملے ہوتے رہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''فی الوقت تو شام کو اسلحہ مہیا کرنے پر پابندی عاید ہے اور یورپ سے وہاں کوئی ہتھیار نہیں بھیجے جارہے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دفاعی ہتھیار مہیا کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے لیکن یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ ہم باقی یورپ کے ساتھ مل کر ہی اس پر عمل درآمد کرسکتے ہیں''۔

انھوں نے بتایا کہ فرانس روس اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام الاخضر الابراہیمی کے ساتھ اس مسئلےکے حل کے لیے تبادلہ خیال کررہا ہے کیونکہ وہ پہلے شامی حزب اختلاف کی جانب سے عبوری حکومت کے قیام کا کئی ہفتے تک انتظار کرتا رہا ہے۔

مسٹر لوراں فابئیس نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم شام میں اسلحہ کاری سے گریز کرنا چاہتے ہیں لیکن دوسری جانب ہمیں آزاد کرائے گئے علاقوں کو تباہ ہونے سے بھی بچانا ہوگا اور ہمیں ایک متوازن راستہ تلاش کرنا ہوگا''۔

دوسری جانب روس نے صدر بشارالاسد کے مخالفین کی حمایت کرنے والے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر انھوں نے باغیوں کو اسلحہ مہیا کیا تو یہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔

روسی وزارت خارجہ کے ترجمان الیگزینڈر لوکاشیوچ نے ماسکو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''متعدد دارالحکومتوں کی جانب سے (شامی باغیوں کو) بھاری مقدار میں جدید اسلحہ مہیا کرنے کے وعدے کیے جا رہے ہیں۔اس طرح ایک قانونی حکومت کے خلاف مسلح جنگ لڑنے والوں کی مدد بین الاقوامی قانون کی بنیادی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہوگی''۔

فرانس نے گذشتہ منگل کو یورپی ممالک میں سب سے پہلے شامی حزب اختلاف کے نوتشکیل شدہ اتحاد کو شامی عوام کا حقیقی نمائندہ تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے ایک نیوزکانفرنس میں کہا کہ (دوحہ میں قائم کیا گیا) نیا اتحاد (شامی قومی کونسل) مستقبل میں ایک عارضی حکومت کے طور پر کام کرے گا اور اب شامی حزب اختلاف کو اسلحہ مہیا کرنے کے معاملے پر بھی نظرثانی کی جائے گی''۔

واضح رہے کہ فرانس ماضی میں شامی صدر کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے جنگجوؤں کو اسلحہ مہیا کرنے کی مخالفت کرتا رہا ہے اور اس کا موقف تھا کہ یہ ہتھیار شام میں اسلامی جنگجوؤں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں لیکن شامی صدر کے مخالف مختلف دھڑوں پر مشتمل نیا اتحاد یورپی ممالک سے اسلحہ مہیا کرنے کا مطالبہ کررہا ہے تاکہ صدر بشارالاسد کو بہ زور اقتدار سے نکال باہر کیا جا سکے۔

امریکا اور برطانیہ نے ابھی تک نئی شامی قومی کونسل کو تسلیم نہیں کیا ہے۔برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ شامی قومی کونسل کو شام کے اندر حاصل عوام کی حمایت سے متعلق مزید شواہد کا جائزہ لے گا۔اس کے بعد وہ اس کو جلاوطن حکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کرے گا۔اس ضمن میں برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی زیرصدارت جمعرات کو ایک اجلاس ہونے والا تھا جس میں شامی حزب اختلاف کو اسلحہ مہیا کرنے سے متعلق امور پر غور کیا جانا تھا۔