.

مبلغ نے بچی کو قتل کر کے سفاکیت کا مظاہرہ کیا سعودی وزیر

سعودی وزارت مذہبی امور کا قاتل واعظ سے اظہار لاتعلقی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور نے سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی پانچ سالہ بیٹی کو تشدد کر کے موت سے ہم کنار کرنے والے مذہبی عالم سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے۔

سعودی عرب کے اسلامی امور، وقف اور رہنمائی کے امور کے وزیر شیخ صالح بن عبدالعزیز آل شیخ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''لمی کے والد ان علماء میں شامل نہیں ہیں جو سرکاری طور پر وزارت کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں''۔

سعودی روزنامے 'الشرق' کی رپورٹ کے مطابق شیخ صالح نے اپنے بیان میں کہا کہ ''ہمارا ان صاحب سے کسی بھی طرح کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انھوں نے جو کچھ کیا، یہ ایک سفاکانہ جرم ہے اور اس کی پوری قوم نے مذمت کی ہے۔ وہ ایک دینی قائد اور دینی عالم ہو سکتے اور نہ انھیں ان کے سفاکانہ جرم پر کوئی بھی معاف کر سکتا ہے''۔

سعودی روزنامے 'عکاظ' نے منگل کو اطلاع دی تھی کہ حکام نے اپنی بیٹی کے قاتل اس مبلغ کو گرفتار کر لیا ہے اور اسے تفتیش کے لیے استغاثہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اس اخبار کے مطابق ''یہ صاحب ایک ''معروف'' مذہبی سکالر ہیں اور وہ متعدد سیٹلائٹ ٹیلی ویژن چینلز پر تقریریں کرتے رہتے ہیں''۔

ریاض میں نظامت صحت کے ترجمان سعد القحطانی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کم سن بچی لمی کی میڈیکل رپورٹ متعلقہ فریقوں ہی کو دی جائے گی۔ لمی کی والدہ نے العربیہ ٹی وی کو بتایا تھا کہ مقتولہ والد کے تشدد کے بعد ریاض کے ایک اسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں کئی روز تک موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہی تھی اور وہ چند روز قبل اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئی تھی۔

اس خاتون نے بتایا کہ ''سفاک باپ کے تشدد کے نتیجے میں اس کے بازو ٹوٹ گئے تھے،کھوپڑی کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی تھی اور سر میں زخم تھے۔ اس شخص نے لمی پر ہر طرح کا تشدد روا رکھا تھا''۔ اس خاتون نے اپنے سفاک خاوند سے ماضی میں طلاق لے لی تھی اور ان کے درمیان بچی کو رکھنے کے بارے میں ایک ''سمجھوتا'' طے پایا تھا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ''ان کا سابقہ خاوند سمجھوتے کے تحت دو ہفتے کے لیے بیٹی کو لے کر گیا تھا لیکن اس کو زندہ نہیں لوٹایا۔ ایک دن مجھے دارالحکومت ریاض سے ایک سو ساٹھ کلومیٹر جنوب میں واقع علاقے حوطاط بنی تمیم سے تعلق رکھنے والے پبلک پراسیکیوٹر کی اچانک ایک فون کال موصول ہوئی جس میں انھوں نے مجھے شمسی اسپتال جانے کا کہا''۔

اس خاتون کے مطابق میڈیکل رپورٹ میں واضح تھا کہ لمی کو مارا گیا تھا اور بجلی کے جھٹکے دیے گئے تھے۔ اسے استری کے ساتھ بھی داغا گیا تھا جس سے وہ جل گئی تھی۔ اسپتال کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اس شخص نے اپنی بیٹی پر تشدد کا اعتراف کیا تھا لیکن یہ نہیں بتایا تھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا تھا؟

اس خاتون اور اسپتال کی انتظامیہ نے سگی کم سن بیٹی کو اس طرح ظالمانہ انداز میں تشدد کا نشانہ بنانے والے اس شخص کا نام نہیں بتایا تھا اور صرف یہ کہا تھا کہ وہ ٹیلی ویژن پر تقریریں کرنے والا ایک معروف مبلغ ہے۔ سعودی عرب کی قومی سوسائٹی برائے انسانی حقوق کی رکن سہیلہ زین العابدین نے اس والد کو اس کے بہیمانہ جرم پر سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ مملکت میں اپنی ہی اولاد کو قتل کرنے والی مطلقہ عورتوں یا مردوں کو کڑی سزائیں نہیں دی جا رہی ہیں اور اس وجہ سے ایسے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔