.

محمد مراح کو والدین کی جہالت نے دہشت گرد بنا دیا

القاعدہ کے مقتول جنگجو کے بھائی کا خود نوشت میں انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امسال فرانس میں چار یہودی سیاحوں اور تین فرانسیسی شہریوں کو قتل کرنے والے القاعدہ کے مبینہ جنگجو الجیرین نژاد فرانسیسی نوجوان محمد مراح کے بھائی عبدالغنی نے اپنی خودنوشت میں 'والدین کی جہالت کو مراح کے غلط نظریات کی بنیاد قرار دیا ہے جس نے اسے دہشت گرد بنا دیا۔'

فرانس میں امسال مارچ میں چار یہودیوں اور تین فرانسیسیوں کے مبینہ قتل میں ملوث مقتول الجیرین نژاد فرانسیسی محمد مراح کے بھائی عبدالغنی مراح نے کہا ہے کہ اس کا بھائی غلط راستے پر چل پڑا تھا اور اس کے غلط نظریات کا سبب والدین کی ’جہالت‘ ہے جس نے محمد مراح کو دہشت گرد بنا دیا۔ 'میرا دہشت گرد بھائی' کے عنوان سے شائع ہونے والی عبدالغنی کی خودنوشت میں انہوں نے خاندان کے ساتھ اپنے اختلافات کی وجوہات اور ان کی اسلام پسندی پر سخت تنقید کی ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال مارچ کے اواخر میں محمد مراح نامی فرانسیسی نوجوان نے چار اسرائیلی اور تین فرانیسی شہری فرانس کے جنوبی مغربی شہر ٹولوز میں ایک حملے میں ہلاک کر دیئے تھے۔ کارروائی کے بعد پولیس نے ملزم کے ٹھکانے کی نشاندہی پر اسے پکڑنے کی متعدد بار کوشش کی تاہم اسے زندہ گرفتار کرنے میں ناکام رہی جس کے بعد اسے گولی مار دی گئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عبدالغنی مراح کتاب میں رقمطراز ہے: "کہ بچوں کی تربیت پر والدین کی سوچ اور معمولات کا گہرا اثر پڑتا ہے۔ میرے چھوٹے بھائی محمد مراح کی زندگی کی تباہی اور اس کے گمراہ کن خیالات میں والدین خصوصا والد کا بہت زیادہ ہاتھ تھا۔ انہوں نے محمد کو شدت پسند تنظیموں کے ساتھ رابطوں کی کھلی چھوٹ دی۔ والد صاحب نے تعدد ازواج کے شوق اور منشیات کے دھندے کے باعث مراح کی تربیت سے ہاتھ کھینچ لیا جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ایک دہشت گرد بن گیا۔"



عبدالغنی کے مطابق: "میرے خاندان کی اکثریت الجزائر کے اسلامک فرنٹ سے ہمدردی رکھتے تھے۔ اس جماعت نے نوے کی دہائی کے اوائل میں بڑی سیاسی کامیابی حاصل کی، تاہم فوج نے ان کی انتخابی کامیابی پر شب خون مارا۔ نائن الیون کے ردعمل میں میرا خاندان بھی شدت پسندوں کا حامی تھا تاہم مجھے یہ بات گوارا نہ تھی۔ اس لیے میں نے اپنے خاندان اور بہن بھائیوں سے علاحدگی اختیار کر لی۔ میرے تین بھائی عبدالقادر، سعاد اور محمد مراح فرانس میں پرتشدد کارروائیوں کے بارے میں آپس میں بحث کیا کرتے تھے۔ بعد میں انہوں نے فرانس میں کارروائیوں کے لیے ایک تنظیم بنانے کا بھی پروگرام بنایا تھا۔



عبدالغنی کے الجیرین والد نے اپنے بیٹے کی خود نوشت 'میرا دہشت گرد بھائی' پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عبدالغنی اور محمد مراح میں بہت فرق تھا۔ عبدالغنی خاندان کے معاملے میں ایک لاپرواہ انسان ہے اور اس نے ہمیشہ ہمارے لیے مشکلات پیدا کیں۔ آج وہ اپنے مقتول بھائی کے بارے میں کتاب لکھ کر اس کی مذمت کرتا ہے۔ عبدالغنی کے اس اقدام سے خاندان میں تشویش پائی جاتی ہے۔

مصنف کا یہودی لڑکی سے تعلق؟

عبدالغنی کے والد نے مزید بتایا کہ "عبدالقادر مراح جب جیل میں تھا تو عبدالغنی نے ایک مرتبہ بھی اہل خانہ سے فون پر بھی رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی وہ کبھی بھائی سے جیل میں ملنے گیا۔ آج وہ یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ خاندان کا ہمدرد وغمگسار ہے۔ اگر وہ واقعتاً ایسا ہی ہے تو بھائی محمد مراح کو دہشت گرد کیوں قرار دیتا ہے"؟

ایک سوال کے جواب میں عبدالغنی کے والد نے کہا کہ انہیں کتاب میں منشیات فروش قرار دیا جانا ایک 'سنگین مذاق' ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبدالغنی کی بات پر یقین کرنے سے قبل آپ [العربیہ ڈاٹ نیٹ] کو میرے اہل خانہ اور دوسرے بیٹوں اور میری اہلیہ سے معلوم کرنا چاہیے تھا کہ جس نے پوری زندگی میرے ساتھ گذار دی ہے۔

الجیرین اسلامک فرنٹ سے تعلق کے الزام کے بارے میں انہوں نے کہا کہ عبدالغنی کے سوا میرا پورا خاندان اسلامی شریعت کا پابند ہے۔ کسی مسلمان کا پابند صوم و صلوۃ ہونا اس امر کی دلیل ہر گز نہیں ہوتا کہ ان کا تعلق کسی شدت پسند تنظیم سے ہے۔ ہمارا خاندان ایک متعدل دینی گھرانہ ہے جبکہ عبدالغنی ایک بد اخلاق شخص ہے جس کے ایک یہودی لڑکی کے ساتھ ناجائز مراسم بھی ثابت ہو چکے ہیں۔