.

یورپی پارلیمنٹ کی شیر خوار ایم پی سے ایوان کی رونق دوبالا

'بیٹی کو گورنس کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
وکٹوریا کی کہانی اس وقت شروع ہوئی جب اس کی والدہ نے اسے گورننس کے پاس چھوڑنے سے انکار کیا، جس کے بعد اپنی پیدائش کے بعد یہ 'ننھی پری' اپنا زیادہ وقت یورپی پارلیمنٹ میں گزارنے پر 'مجبور' ہو گئی۔ اب وکٹوریا اپنی والدہ اطالوی رکن پارلیمنٹ لیشیا رونزلی کے ہمراہ ایوان میں پیش ہونے والی قراردادوں پر ووٹنگ میں اپنے مخصوص طریقے سے شریک ہوتی ہیں۔

اٹھارہ ماہ کی وکٹوریا صرف 'ماما' کا لفظ بول سکتی ہے لیکن اس کے باوجود وہ یورپی پارلیمنٹ کی سیاست میں بڑھ چڑھ کر شرکت کرتی ہے۔ وکٹوریا روز اول سے ہی پارلیمنٹ کی بیٹی بنی ہوئی ہے۔ اسی ایوان کی نشتوں پر وکٹوریا پلی بڑھی ہے۔ اس کے دوست عام بچے نہیں بلکہ اسکی امی اور ان کے دوسرے ہم عصر ارکان پارلیمںٹ ہیں۔

وکٹوریا کی یورپی پارلیمںٹ میں موجودگی سے منتخب ایوان کی اہمیت دوچند ہو گئی ہے۔ تمام پارلیمنٹرینز سے اس کے لاڈ پیار اور بوسہ بازی سے ایوان کی رونق مزید بڑھ جاتی ہے۔ اپنی پیدائش سے ہی وہ والدہ کے ہمراہ ایوان کے اسٹراس برگ میں ہونے والے اجلاسوں میں شرکت کرتی چلی آ رہی ہے۔

رونزلی ورکنگ وویمنز کے لئے مددگار فراہمی کے نظریئے سے اتفاق نہیں کرتیں اور نہ ہی اپنی بچی کو لمحے بھر کے لئے اپنی نظروں سے اوجھل ہونے دیتی ہیں۔ ان کی اسی کوشش سے اطالوی خواتین کو اپنے بچے کام کی جگہ ساتھ لیجانے کی اجازت ملی ہے۔

وکٹوریا کبھی کبھار ایوان کی روٹین سے بور ہو جاتی ہے۔ ایوان میں ہونے والی تقریروں سے ننھی پارلیمنٹرین کے معمولات متاثر نہیں ہوتے تاہم ایسا لگتا ہے کہ ان سارے معمولات میں وکٹوریا کو قراردادوں پر ووٹ دینا سیاسی کھیل میں سب سے زیادہ بھاتا ہے۔