.

ایران، شام کی فرقہ وارانہ نہیں سیاسی بنیاد پر مدد کر رہا ہے بنی صدر

ولایت فقیہ کے پرچارک علی خامنہ ای عالم دین نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسلامی جمہوریہ ایران میں انقلاب کے بعد پہلے صدر ابو الحسن بنی صدر نے شام کی فرقہ ورانہ بنیاد پر ایرانی مدد اور حمایت کا تاثر غلط قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شام اور ایران میں دو الگ الگ فرقوں کے نظام ہائے حکومت رائج ہیں۔ ایران میں شیعہ نظام حکومت ہے جبکہ شام میں علویوں کی حکومت ہے۔

سابق ایرانی صدر نے ان خیالات کا اظہار 'العربیہ' ٹی وی کے فلیگ شپ پروگرام 'پوائنٹ آف آرڈر' میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ تہران کی جانب سے شام کی فرقہ ورانہ بنیاد پر مدد کا تاثر درست نہیں البتہ اس کے سیاسی پہلو ہو سکتے ہیں۔

آیت اللہ علی خمینی عالم اسلام میں اہل تشیع کا الگ بلاک بنانے کی منصوبے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے بنی صدر نے کہا کہ ایسا ایک مرتبہ ہوا تھا۔ ایران ۔ عراق جنگ کے دوران فلسطینی لیڈر یاسر عرفات تہران آئے۔ انہوں نے امام خمینی سے ملاقات کی۔ مرحوم خمینی نے یہ تجویز یاسر عرفات کے سامنے رکھی تو ابو عمار نے اس کی مخالفت کی اور نہایت ترش لہجے میں کہا کہ ہم آپ کو اسلامی دنیا میں شیعہ بلاک بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ تاہم ایران کو عراق کے خلاف شیعہ بلاک کی ضرورت تھی۔ اس لیے امام خمینی اپنی تجویز پر ڈٹے رہے۔ ان کا گمان تھا کہ وہ چند مہینوں میں عراق فتح کر لیں گے۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ جس جنگ کا آغاز کر رہے ہیں ایرانی قوم کو آٹھ سال تک اسے بھگتنا پڑے گا۔

بنی صدر نے ایران کے جوہری پروگرام کی آڑ میں کسی قسم کی بیرونی فوج کشی اور معاشی پابندیوں کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی کوئی دوسری قوت ہمیں ایٹمی ٹیکنالوجی سے نہیں روک سکتی۔ یہ طاقت صرف ایرانی عوام میں ہے وہ چاہے تو حکومت کو اس کام سے روک سکتی ہے۔

خامنہ ای پر تنقید

سابق ایرانی صدر ابو الحسن بنی صدر نے موجودہ حکومت کو ناقابل اصلاح قرار دیا۔ انہوں نے ولایت فقیہ کے نظام پر تنقید کی اور کہا کہ یہ فرسودہ نظام اس لیے ناقابل اصلاح ہے کیونکہ اس میں تمام اختیارات ولی فقیہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے ہاتھ میں ہیں جو نہ تو فقیہ ہیں اور نہ ہی عالم دین۔ انہوں نے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں اس لیے نہیں لے رکھے کہ وہ انتطامیہ، عدلیہ، پارلیمنٹ یا دوسرے اداروں کو آئینی طور پر کنٹرول کر رہے ہیں بلکہ وہ تکبر کے لیے ان اختیارات کا استعمال کرتے ہیں۔

ایران میں جمہوریت کے قیام کی بیرون ملک مساعی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر بنی صدر نے کہا کہ وہ جس طرح دوسرے ملک پر باہر سے جنگ مسلط کرنے کے خلاف ہیں، اسی طرح باہر سے جمہوریت درآمد کرنے کے بھی سخت خلاف ہیں۔ افغانستان اور عراق کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ان دونوں ملکوں میں عالمی طاقتیں سلطانی جمہور کے نعرے کی آڑ میں داخل ہوئی تھیں۔ آج ان ملکوں کی اندرونی حالت دیکھ کر دُکھ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران میں عوام اگر ایک مطلق العنان بادشاہ کا تختہ الٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو وہ اس نظام کہنہ کو اکھاڑ پھینکنے کی بھی طاقت رکھتے ہیں۔ ہم باہر سے کسی سے مدد کیوں مانگیں گے۔ عوام خود جانتے ہیں کہ موجودہ نظام حکومت چند افراد کا خود ساختہ سسٹم ہے جس کی ایران میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔