ایران، شام کی فرقہ وارانہ نہیں سیاسی بنیاد پر مدد کر رہا ہے بنی صدر

ولایت فقیہ کے پرچارک علی خامنہ ای عالم دین نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سابق ایرانی صدر ابو الحسن بنی صدر نے موجودہ حکومت کو ناقابل اصلاح قرار دیا۔ انہوں نے ولایت فقیہ کے نظام پر تنقید کی اور کہا کہ یہ فرسودہ نظام اس لیے ناقابل اصلاح ہے کیونکہ اس میں تمام اختیارات ولی فقیہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے ہاتھ میں ہیں جو نہ تو فقیہ ہیں اور نہ ہی عالم دین۔ انہوں نے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں اس لیے نہیں لے رکھے کہ وہ انتطامیہ، عدلیہ، پارلیمنٹ یا دوسرے اداروں کو آئینی طور پر کنٹرول کر رہے ہیں بلکہ وہ تکبر کے لیے ان اختیارات کا استعمال کرتے ہیں۔

ایران میں جمہوریت کے قیام کی بیرون ملک مساعی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر بنی صدر نے کہا کہ وہ جس طرح دوسرے ملک پر باہر سے جنگ مسلط کرنے کے خلاف ہیں، اسی طرح باہر سے جمہوریت درآمد کرنے کے بھی سخت خلاف ہیں۔ افغانستان اور عراق کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ان دونوں ملکوں میں عالمی طاقتیں سلطانی جمہور کے نعرے کی آڑ میں داخل ہوئی تھیں۔ آج ان ملکوں کی اندرونی حالت دیکھ کر دُکھ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران میں عوام اگر ایک مطلق العنان بادشاہ کا تختہ الٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو وہ اس نظام کہنہ کو اکھاڑ پھینکنے کی بھی طاقت رکھتے ہیں۔ ہم باہر سے کسی سے مدد کیوں مانگیں گے۔ عوام خود جانتے ہیں کہ موجودہ نظام حکومت چند افراد کا خود ساختہ سسٹم ہے جس کی ایران میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں