.

ایران بم حملوں کی سازش کے الزام میں متعدد افراد گرفتار

اسرائیلی اور مغربی اداروں کی تخریب کاری کی سازش بے نقاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران کی وزارتِ سراغرسانی نے تیل کی دولت سے مالا مال جنوب مغربی صوبے خوزستان میں مغربی اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں کی مدد سے بم حملوں کی سازش کو ناکام بنانے اورا س میں ملوث مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کی اطلاع دی ہے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کی ویب سائٹ پر جمعہ کو وزارت سراغرسانی کا ایک بیان نقل کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق ''گذشتہ چند روز کے دوران غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے وابستہ متعدد دہشت گرد عناصر کو ان کی نشان دہی ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے بھاری مقدار میں بارود اور دوسرا مواد بھی پکڑا گیا ہے جو انھیں خلیج فارس کے خطے میں واقع ایک پڑوسی ملک سے بھیجا گیا تھا''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''یہ عناصر مغربی اور صہیونی انٹیلی جنس سروسز کے زیر قیادت تخریبی کارروائیاں انجام دینا چاہتے تھے لیکن اس سازش کو ناکام بنا دیا گیا ہے''۔ گرفتار مشتبہ افراد خوزستان میں توانائی کے ڈھانچے کو دھماکوں سے اڑانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے لیکن ان کی شناخت بتائی گئی ہے اور نہ دیگر تفصیل ظاہر کی گئی۔

خوزستان میں عربوں کی اکثریت ہے اور اس صوبے میں ماضی میں بھی دہشت گردی کے واقعات رونما ہو چکے ہیں جبکہ ایران ماضی میں مغربی خفیہ ایجنسیوں اور اسرائیلی موساد پر اپنے جوہری سائنسدانوں پر قاتلانہ بم حملوں کے الزامات عاید کر چکا ہے۔

واضح رہے کہ سن 2010ء کے بعد ایران کے پانچ سائنسدانوں اور تعلیمی ماہرین کو بم حملوں میں قتل کیا جا چکا ہے۔ ایران نے امریکا اور اسرائیل پر ان بم حملوں کے الزامات عاید کیے تھے۔ امریکا نے ان الزامات کی تردید کی تھی لیکن اسرائیل کی جانب سے آج تک اس مسئلے پر کوئی لب کشائی نہیں کی گئی۔

صوبہ خوزستان سے تعلق رکھنے والے اہوازی عربوں کا کہنا ہے کہ انھیں ایرانی حکومت کی جانب سے امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انھیں روزگار کے مواقع نہیں دیے جا رہے اور بنیادی شہری اور سیاسی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

ایرانی حکومت اہوازیوں پر بھی دہشت گردی اور تخریب کاری کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عاید کرتی رہتی ہے اور جون میں ایسے ہی الزامات کے تحت چار عربوں کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان کے عدالت میں ٹرائل کی شفافیت پر سوالات اٹھائے تھے اور ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد روک دے۔