.

عمان میں مہنگائی کے خلاف ہزاروں افراد کے مظاہرے

شاہ عبداللہ سے اقتدار چھوڑنے کے مطالبات زور پکڑنے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اردن کے دارالحکومت عمان میں ہزاروں افراد نے اشیائے ضروریہ کی روز افزوں قیمتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور اس دوران حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی ہے۔

عمان میں جامع مسجد حسینی کے نزدیک سے نماز جمعہ کے بعد احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ مظاہرین نے پُرامن انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا لیکن انھوں نے شاہ عبداللہ دوم کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس دوران شاہ کے معدودے چند حامی بھی وہاں آ گئے اور انھوں نے ان کے حق میں نعرے بازی شروع کر دی۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کی اطلاعات کے مطابق مظاہرے میں قریباً چار ہزار افراد شریک تھے۔ وہ شاہ عبداللہ سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ عمان میں مظاہرے کے دوران شاہ اردن کے خلاف نعرے بازی کی گئی ہے۔ وگرنہ پہلے ان کے مقرر کردہ وزرائے اعظم اور ان کی حکومتوں کے خلاف ہی نعرے بازی کی جاتی رہی ہے۔

اردن میں بدھ سے ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ ملک کے دوسرے شہروں میں مہنگائی کے خلاف احتجاجی جلوسوں کے دوران بے روزگار نوجوانوں اور مظاہرین نے پولیس اسٹیشنوں اور سرکاری عمارتوں پر حملے کیے ہیں۔ انھوں نے بعض مقامات پر کاروں اور سرکاری عمارتوں کو نذر آتش کر دیا ہے اور سڑکوں کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔

جمعرات کو شمالی شہر اربید میں مشتعل ہجوم کے ایک پولیس اسٹیشن پر حملے کے دوران ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا۔ ان مظاہروں میں حکومت مخالفین پیش پیش ہیں اور انھیں ملک کی سب سے منظم دینی سیاسی قوت اخوان المسلمین کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم اخوان کے لیڈر ذاتی طور پر دارالحکومت یا دوسرے شہروں میں مظاہروں میں نظر نہیں آئے۔

اردن میں اخوان کے رہ نما شیخ ہمام سعید نے ایک بیان میں کہا کہ ''شاہ عبداللہ کو قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لینا چاہیے۔ اردنی عوام اب مزید بوجھ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے''۔

واضح رہے کہ اردن میں اس وقت خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے افراد کی شرح پچیس فی صد کے لگ بھگ ہے۔ اردنی شہری یکے بعد دیگرے بر سر اقتدار آنے والی حکومتوں کو ملکی معیشت کی بدحالی کاذمے دار قرار دیتے ہیں جن کے نتیجے میں ملک کے ذمہ غیر ملکی قرضہ پندرہ ارب ڈالرزسے بڑھ چکا ہے۔

اردنی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ساٹھ لاکھ آبادی کے اس ملک میں بے روزگاری کی شرح چودہ فی صد سے زیادہ ہے، ان میں سے ستر فی صد تیس سال سے کم عمر کے نوجوان ہیں لیکن آزاد ذرائع کے مطابق ملک میں کل آبادی کا تیس فی صد افراد بے روزگار ہیں۔