.

شام میں العربیہ کا جنگی وقائع نگار راکٹ حملے میں زخمی

محمد دغمش حلب میں پرامن مظاہرہ کور کر رہے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
العربیہ ٹی وی کے جنگی وقائع نگار محمد دغمش کو شام سے ترکی منتقل کر دیا گیا ہے۔ دغمش جمعہ کے روز حلب میں ایک پرامن مظاہرے کی کوریج کے دوران مارٹر گولے کے ٹکڑے لگنے سے زخمی ہو گئے تھے۔

العربیہ نیوز پروڈیوسر محمد چی بارو نے بتایا کہ شامی رجیم کی جانب سے داغا گیا ایک شیل حلب میں ہونے والے پرامن مظاہرے میں آ گرا، دغمش اس وقت چینل پر مظاہرے کی براہ راست رپورٹنگ کر رہے تھے۔ محمد دغمش کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ترکی میں ماہر ڈاکٹر ان کا علاج کر رہے ہیں۔

العربیہ کے نامہ نگار گزشتہ چند مہینوں سے شام میں بپا عوامی تحریک کی رپورٹنگ کر رہے تھے۔ انہوں نے سرحدی شہروں حلب اور ادلب سمیت شام کے دوسرے حصوں سے بھی رپورٹنگ کی ہے۔

العربیہ نیوز ٹیم کو اطلاع ملی تھی کہ محمد دغمش کو سر اور کمر پر لگنے والوں زخموں کی وجہ سے دکھائی دینا بند ہو گیا ہے، تاہم فوری ضروری علاج کے بعد دغمش اب رو بہ بصحت ہیں۔

دغمش نے العربیہ کے نیوز بلیٹن میں چلائی جانے والی ایک اسپیشل ویڈیو میں اپنی زخمی ہونے کے واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ راکٹ گرنے سے بہت سے لوگ ہلاک و زخمی ہوئے ہیں تاہم مجھے ان کی حتمی تعداد معلوم نہیں کیونکہ میں بے ہوش ہو گیا تھا۔

نقاہت بھرے لہجے میں دغمش نے کیمرہ مین کو ہدایت کی وہ فلم رول کرنا بند کر دے کیونکہ وہ مزید بو نہیں سکیں گے۔