.

فرانس، شامی اپوزیشن کے نمائندہ سفیر کی میزبانی کرے گا

اپوزیشن کو دفاعی نوعیت کے ہتھیار فراہمی پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فرانسیسی صدر فرانسو اولاند اور شامی اپوزیشن کے نو منتخب رہنما نے پیرس میں شام کی نمائندگی کے لئے سفیر مقرر کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ منصوبے کے تحت شامی اپوزیشن نے منذر ماخوس کو اپوزیشن کا نمائندہ سفیر مقرر کیا ہے جس کی فرانسیسی صدر نے توثیق کر دی۔

صدر فرانسو اولاند اور شامی اپوزیشن اتحاد کے نو منتخب سربراہ معاذ الخطیب کے درمیان صدارتی محل میں والی ملاقات کے بعد یہ حیران کن اعلان سامنے آیا ہے۔ شامی اتحاد کو تاسیس کے چند ہی دنوں بعد فرانس نے شامی عوام کا نمائندہ فورم تسلیم کر لیا تھا اور مغربی ملکوں میں فرانس ہی اب تک ایسا کرنے والا پہلا ملک ہے۔ ملاقات میں فرانسیسی وزیر خارجہ لوران فابئیس بھی موجود تھے۔

فرانسیسی صدر نے بتایا کہ وزیر خارجہ لوران فابئیس برسلز میں سوموار کو ہونے والے یورپی یونین وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شام کو اسلحہ فراہمی پر عائد یورپی یونین کی پابندی اٹھانے کے معاملے پر بات کریں گے۔ سوموار فابئیس نے تجویز دی کہ شامی باغیوں کو دفاعی نوعیت کے ہتھیاروں کی فراہمی سے انہیں بشار الاسد فوج کے حملوں سے بچایا جا سکتا ہے۔

گزشتہ برس مارچ سے جاری حکومت مخالف تحریک میں ابتک گزشتہ برس مارچ سے جاری حکومت مخالف تحریک میں ابتک 36,000 شامی شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

شامی اپوزیشن کا نیا اتحاد نہتے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے پر زور دے رہا ہے۔ گزشتہ برس مئی سے پورپی یونین نے شام کو ہتھیاروں کی برآمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے کیونکہ خدشہ ہے کہ یہ ہتھیار شامی عوام کو دبانے کے لئے استعمال کئے جا سکتے ہیں۔

بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے لئے ہونے والی کوششوں میں فرانس سرفہرست ہے۔ مسٹر اولاند نے معاذ الخطیب سے ملاقات میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ان کا ملک ' شامی اپوزیشن اور انقلابی قوتوں کے قومی اتحاد' کو ہی شامی عوام اور مستقبل کی عبوری حکومت کا نمائندہ سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرانسیسی وزیر خارجہ برسلز اجلاس میں یورپی یونین کے رکن ملکوں سے نئے شامی اتحاد کو تسلیم کرنے پر زور دیں گے۔