.

پیرس ہلٹن کا مکہ میں سٹور، سوشل میڈیا پر ہدف تنقید

برانڈ کی مکہ میں پہلی اور سعودیہ میں پانچویں شاخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکا کی 'مشہور' شخصیت اور ورثے میں بے پناہ دولت حاصل کرنے والی پیرس ہلٹن نے اپنے ہینڈ بیگ برانڈ کی شاخ مکہ میں کھول لی ہے۔ سوشل میڈیا ویب سائٹس پر اس اعلان کے بعد شدید احتجاج اور اعتراض کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

اس کاروباری توسیع کا اعلان پیرس ہلٹن نے گزشتہ روز اپنے ٹیوٹر اکاؤنٹ کے ذریعے کیا۔ اپنی ٹیوٹ میں ان کا کہنا تھا: "مجھے حال ہی مکہ میں کھلنے والا نیا سٹور بہت اچھا لگتا ہے۔

"

تاہم عریاں فلموں میں کام کرنے والی اس امریکی اداکارہ کے نئے سٹور کے بارے میں لوگوں نے زیادہ جوش نہیں دکھایا بلکہ اکثریت نے سعودی عرب میں دولتمند فنکارہ کے اس کاروبار کے آغاز پر انہیں کڑوی کسیلی سنائیں۔



مکہ میں سٹور کھولنے کے اعلان کے بارے میں پیرس ہلٹن کے ٹیوٹ کا جواب دیتے ہوئے ایک شخص نے کچھ یوں تبصرہ کیا: "کیا تم مذاق کر رہی ہو؟" ایک اور دل جلے نے کہا: "سعودی عرب میں اگر مذہب کی کوئی اہمیت ہے تو @ParisHilton کو مکہ میں سٹور کھولنے کی اجازت کیونکر دی گئی۔

"

پیرس ہلٹن کے ٹیوٹر اکاؤنٹ فالور نے مصنوعات کے اسٹائل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "یہ بات ہوئی نا؟ اسی لئے لوگ انہیں نہیں خریدتے؟ اس لئے نہیں کہ وہ عریاں فلموں میں کام کر کے دولت کما رہی ہے بلکہ اس لئے کہ اب وہ مکہ میں برانڈ فرخت کر کے اپنی دولت میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔"

ہلٹن نے ہوٹل کا کاروبار کرنے والے دادا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے پروفائل میں کاروباری شخصیت کا تعارف تو شامل کرا لیا آوارہ طرز زندگی کی وجہ سے وہ ملک کے کاروباری حلقوں میں سنجیدہ مقام حاصل نہیں کر سکیں۔ اپنی انہی حرکتوں کی وجہ سے ہلٹن امریکا میں مختصر مدت کی جیل بھی کاٹ چکی ہیں۔