.

امریکی صدر نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی حمایت کر دی

فلسطینی تنظیموں پر بحران کا سبب بننے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکی صدر براک اوباما نے اپنے پیش رو صدور کی تقلید کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر غزہ پر صہیونی فوج کی جارحیت کی حمایت کر دی ہے اور فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان کے راکٹ حملوں کو بحران کا ذمے دار قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ غزہ کا بحران اسرائیلی فوج کی علاقے پر چڑھائی کے بغیر ختم ہونا چاہیے۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ ''اسرائیل کو ہر طرح سے یہ حق حاصل ہے کہ اس کے علاقے میں میزائل نہ گریں لیکن اگر یہ مقصد غزہ میں فوجی چڑھائی کے بغیر حاصل ہو سکتا ہے توترجیحی طور پر ایسا ہونا چاہیے''۔

انھوں نے اسرائیل کی پشتی بانی کا حق ادا کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ نہ صرف غزہ کے عوام کے لیے ترجیحی طور پر بہتر ہے بلکہ یہ اسرائیلیوں کے بھی ترجیحی لحاظ سے بہتر ہے کیونکہ اگر اسرائیلی فوجی غزہ جاتے ہیں تو وہ ہلاک یا زخمی ہونے کے خطرے سے دوچار ہوں گے''۔

براک اوباما نے اسرائیل کی حمایت میں یہ بیان تھائی لینڈ سے جاری کیا ہے۔ ان سے چندے قبل جنگ پسند انتہا پسند اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل، غزہ میں جنگ کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے۔

امریکی صدر نے صہیونی ریاست کے اپنے مزعومہ دفاع کے حق کی حمایت کی اور اسرائیلی موقف کی ترجمانی کا حق ادا کرتے ہوئے کہا کہ ''غزہ بحران کے حالیہ واقعات اسرائیلی علاقے میں انتہاپسندوں کے راکٹ حملوں کا نتیجہ ہے اور دنیا میں کوئی بھی قوم اس طرح کی سرگرمی کو برداشت نہیں کر سکتی''۔

انھوں نے یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں مزید دس فلسطینی شہید ہو گئے ہیں اور دو راکٹ اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب پر جا کر گرے ہیں جبکہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت رکوانے کے لیے کوششیں بھی جاری ہیں۔

اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے آج ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ اپنے مصری ہم منصب محمد مرسی کی غزہ میں جنگ بندی کے لیے کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔تاہم انھوں نے فلسطینی تنظیم حماس پر الزام عاید کیا کہ وہ مصری صدر کی جنگ بندی کی شرائط کو رد کر رہی ہے۔

وہ برطانوی سکائی نیوز ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کر رہے تھے۔ ان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا ان کے نزدیک تنازعے کی شدت میں کمی کا امکان ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ''جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو اس کا جواب ہاں میں ہے''۔ان کا کہنا تھا کہ ہم غزہ کو فتح نہیں کرنا چاہتے۔

درایں اثناء اسرائیل کے انتہا پسند وزیر خارجہ ایویگڈور لائبرمین نے کہا ہے کہ جب تک فلسطینی علاقے سے راکٹ باری کا سلسلہ جاری رہتا ہے،ہم غزہ کی پٹی کی حکمراں حماس کے ساتھ جنگ بندی کے لیے مذاکرات نہیں کریں گے۔جنگ بندی کے لیے ضروری ہے کہ تمام فلسطینی گروپ راکٹ برسانے کا سلسلہ بند کر دیں۔