.

ایران کا شامی حزب اختلاف کو مسلح کرنے پر انتباہ

علاقائی استحکام کے لیے خطرات پیدا ہوں گے: ایرانی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران نے شامی صدر بشار الاسدکی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے جنگجوؤں کو ہتھیار بھیجنے کی مخالفت کر دی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس سے علاقائی استحکام کے لیے خطرات پیدا ہو جائیں گے اور دہشت گردی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے اتوار کو تہران میں شام سے متعلق ایک مذاکرے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''بعض ممالک شامی حزب اختلاف کو بھاری اور ہلکے ہتھیاروں سے مسلح کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں''۔ انھوں نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ دراصل ایسے ممالک شام میں جو کچھ خفیہ طور پر کر رہے ہیں، اب اسے کھلم عام جائز قرار دلوانا چاہتے ہیں۔

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا سوموار کو برسلز میں شامی حزب اختلاف کو مسلح کرنے کے معاملے پر اجلاس ہو رہا ہے اور اس میں شام میں باغیوں کو اسلحہ مہیا کرنے پر عاید پابندی ختم کرنے پر غور کیا جائے گا۔ فرانس یہ کہہ چکا ہے کہ وہ شامی حزب اختلاف کو دفاعی ہتھیار مہیا کرنے کا حامی ہے۔

یورپی وزرائے خارجہ اگر شام کو اسلحے کی فراہمی پر عاید پابندی ختم کر دیتے ہیں تو اس کے بعد دوحہ میں گیارہ نومبر کو تشکیل پانے والے شامی حزب اختلاف کے مختلف گروپوں پر مشتمل نئے اتحاد کو اسلحہ مہیا کیا جا سکے گا۔

لیکن ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر شامی جنگجوؤں کو اسلحہ دیا جاتا ہے تو اس سے ایک بُری مثال قائم ہو گی اور یہ ایک آزاد ملک کے معاملات میں واضح مداخلت ہو گی۔

اس اقدام سے تمام خطے میں عدم استحکام پھیلے گا اور دہشت گردی کے خطرات بڑھ جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ شامی حزب اختلاف کے نئے اتحاد کو ہتھیار بھیجنے کا اقدام بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہو گی۔

واضح رہے کہ فرانسی وزیر خارجہ لوراں فابئیس نے گذشتہ جمعرات کو ایک انَٹرویو میں کہا تھا کہ ان کا ملک شامی حزب اختلاف کے نئے اتحاد کے قیام کے بعد صدر بشار الاسد کی فوج کے خلاف بر سر پیکار باغی جنگجوؤں کو اسلحہ مہیا کرنے کے لیے اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ بات چیت کرے گا۔

دوسری جانب شام کے اتحادی ممالک ایران، روس اور چین صدر بشار الاسد کے مخالفین کو اسلحہ مہیا کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں اور انھوں نے باغیوں کی حمایت کرنے والے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر انھوں نے باغیوں کو اسلحہ دیا تو اس کے سنگین مضمرات ہوں گے۔