.

تیونس امریکی سفارت خانے پر حملے کے اہم ملزم کی جیل میں ہلاکت

احمد بختی دو ماہ سے مسلسل بھوک ہڑتال پر تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
تیونس میں امریکی سفارت خانے پر حملے کے بعد حراست میں لئے گئے سخت گیر سلفی رہ نما احمد بختی طویل بھوک ہڑتال کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔ شیخ بختی کے وکلاء کے مطابق ان کے مؤکل اپنی بلاجواز گرفتاری پر بطور احتجاج دو ماہ سے مسلسل بھوک ہڑتال ہر تھے۔ دوران حراست ہی وہ ہفتے کے روز جیل اسپتال میں چل بسے ہیں۔



مرحوم شیخ احمد بختی کے وکیل ایڈووکیٹ عبدالباسط نے بتایا کہ ہم نے جمعرات کو حکام کو وارننگ دی تھی کہ شیخ بختی کی جان کو خطرہ ہے، اس لئے ان کے مطالبات تسلیم کیے جائیں۔ وکیل کے مطابق دو ماہ قبل گرفتاری کے بعد بختی نے بھوک ہڑتال شروع کر رکھی تھی۔



قبل ازیں مرحوم کے وکلاء نے بتایا کہ احمد بختی مسلسل بھوک ہڑتال کے باعث کومے میں چلے گئے ہیں اور ان کی دماغ کی ایک شریان بھی پھٹ چکی ہے جس کے بعد ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔



خیال رہے کہ دوران حراست انتقال کرنے والے سلفی رہ نما کو ان کے ایک ساتھی شیخ القلی کے ہمراہ ستمبر کے اواخر میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر تیونس میں امریکی سفارت خانے پر اسلام پسندوں کے ساتھ ملکر حملے کا الزام عائد کیا گیا، یہ حملہ امسال ستمبر میں کیا گیا۔ تاہم دونوں سلفی رہ نما ان حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کرتے رہے ہیں۔



احمد بختی کی جیل میں ہلاکت ایک حساس معاملہ بتایا جاتا ہے کیونکہ مرحوم نہ صرف ملک کے ایک سرکردہ سلفی جہادی رہ نما تھے بلکہ سفارت خانے پر حملے کے مفرور مرکزی ملزم ابو عیاض کے ساتھ بھی ان کے قریبی تعلقات تھے۔ پولیس ابھی تک ابو عیاض کو تلاش کر رہی ہے لیکن اسے پکڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔



خیال رہے کہ احمد بختی کے خلاف ماضی میں بھی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانے کے الزام میں قید کی سزائیں دی جا چکی ہیں۔ سنہ 2007ء میں سابق صدر زین العابدین بن علی کے دور حکومت میں فوج اور بختی کے حامیوں کے درمیان سلیمانیہ شہر میں خونریز جھڑپیں ہوئی تھیں۔ ان جھڑہوں کی پاداش میں عدالت نے علامہ بختی کو 12 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ انہیں موجودہ انقلابی حکومت کی اعلان کردہ عام معافی کے بعد جیل سے رہائی ملی تھی۔