.

سینئر شامی جج علی العون کا صدر بشار خلاف اعلان بغاوت

'دسیوں حکومتی عمال اور سیاستدان بغاوت کے لئے پرتول رہے ہیں'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انتظامیہ اور فوج کی صفوں میں بغاوت کے بعد اب عدلیہ بھی بشارالاسد کی عوام دشمن پالیسیوں سے انحراف کی راہ پر چل نکلی ہے۔ اس ضمن میں ہفتے کے روز دیر الزور عدالت کے سینئر جج علی العون نے علم بغاوت بلند کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔

علی العون عرب بعث سوشلسٹ پارٹی کی دیر الزور شاخ کے رکن بھی تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بشار الاسد اپنے حلیفوں سے مل کر عوام کا قتل عام کر رہے ہیں۔ حلیفوں سے علی العون کی مراد ایران تھا۔

العربیہ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے علی العون کہا کہ میرے بعد عدلیہ سے مزید افراد بھی شامی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے جا رہے ہیں۔ انہیں صرف اعلان کرنا ہے اور اس کے لئے وہ مناسب وقت کے انتظار میں ہیں۔

منحرف جج نے شامی اپوزیشن پر مشتمل جیش الحر کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے بڑے گھرانے کو گروپ کی شکل میں باہر نکلنے میں مدد کی۔ انہوں نے اپنے قبیلے پر زور دیا کہ وہ انقلاب کی مبارک جدوجہد جاری رکھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شامی حکومت رو بہ زوال ہے۔ سرکاری فوج سے آزاد کرانا گیا البوکمال شہر معنوی لحاظ سے اہم ہے کیونکہ یہی وہ تاریخی مقام ہے کہ جہاں سے شامیوں نے سب سے پہلے فرانسیسی استعمار کو مار بھگایا تھا۔ اس شہر کی مزاحمتی تاریخ میں بڑی اہمیت ہے۔ نیز یہ شہر جیش الحر اور منحرف شہریوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ بنے گا۔

انہوں نے العربیہ کے لئے اپنے ویڈیو پیغام میں شام کے منحرف وزیر اعظم ریاض محجوب کو عظیم باغی قرار دیا۔ ان کے اعلان بغاوت کے بعد بشار الاسد حکومت سے علاحدگی کی انتہائی تیز ہوا چلی اور پھر ان کے تعاون سے ہی بعد میں منحرف ہونے والے اعلی سرکاری عہدیدار اپنے اہل خانہ کو ترکی اور اردن بھجوانے میں کامیاب ہوئے۔