.

جرمنی اور ہالینڈ کی جانب سے ترکی کو پیٹریاٹ میزائلوں کی فراہمی

جیش الحر کا حلب میں بڑی فوجی کامیابی کا دعوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
جرمنی اور ہالینڈ نے ترکی کو پیڑیاٹ میزائل فراہم کریں گے۔ ترکی نے ان میزائلوں کی فراہمی کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ دونوں ملک یہ اقدام خود اپنے طور پر کر رہے ہیں تاکہ انقرہ، شام کے ساتھ اپنی نو سو کلومیٹر مشترکہ سرحد کا بہتر طور پر دفاع کر سکے۔ یاد رہے کہ یورپ میں جرمنی اور ہالینڈ ہی دو ایسے ملک ہیں جن کے پیٹریاٹ میزائل ہیں۔

جرمن اخبار 'زڈواچ ژائیٹنگ' نے اپنی حالیہ اشاعت میں بتایا کہ انقرہ کو خدشہ ہے کہ شام میں جاری لڑائی اس کے علاقے میں سرایت نہ کر جائے اس لئے وہ آج معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم [نیٹو] سے شام کے ساتھ اپنی سرحد پر ان میزائلوں کی تنصیب کی اجازت لے گا۔

ادھرتوقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ فرانس، شام کی جیش الحرکو اسلحہ فراہمی کے لئے شامی نیشنل کونسل کے چیئرمین جارج صبرا کی درخواست قبول کر لے گا۔ شام کے میدان جنگ سے موصولہ اطلاعات کی روشنی میں انسانی حقوق آبزرویٹری کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے ملک کے مختلف علاقوں میں 96 افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ دمشق کے علاقے الحجر الاسود میں جیش الحر کی جانب سے سرکاری فوج کے میزائل یونٹ کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔

شام نیوز نیٹ ورک کے مطابق جیش الحر کے جنگجوؤں نے دمشق کے نواحی علاقے السیدہ زینب میں ائر ڈیفنس کی یونٹ پر حملہ کیا ہے۔ شام نیوز کے مطابق دمشق کا نواحی علاقہ داریا بھی سرکاری فوج کی مسلسل گولا باری کی زد میں ہے۔ مقامی کوارڈی نیشن کمیٹیوں کا کہنا ہے کہ سرکاری فوج کی مسلسل گولا باری سے بابیلا میں متعدد گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں۔

درعا پر گولا باری کے بعد مختلف علاقوں میں لگنے والے آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرتے دیکھے گئے۔ حمص کے الرستن قصبے پر بھی شامی فوج کی گولا باری کا سلسلہ آخری اطلاعات آنے تک جاری تھا۔ شام نیوز نیٹ ورک کے مطابق بشار الاسد کی حامی فوج نے دیر الزور کے الجبیلہ علاقے کو بھی توپخانے سے نشانہ بنایا ہے۔

جیش الحر نے حلب کے علاقے اتارب میں کئی دنوں کی شدید لڑائی کے بعد ایک اہم عسکری کامیابی حاصل کی ہے۔ اپوزیشن پر مشتمل جیش الحر نے اس عسکری کامیابی میں بڑی تعداد میں بھاری اسلحہ قبضے میں لینے کا دعوی کیا ہے۔

نیز سرکاری فوج کے متعدد اہلکاروں کو کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا ہے۔ ایک ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد جیش الحر کی مشترکہ کمان نے دعوی کیا کہ انہوں نے 2600 سرکاری فوجیوں پر مشتمل بٹالین کو اپنے زیر نگین کیا ہے۔ جیش الحر نے کارروائی کے دوران ہاتھ لگنے والے مال غنیمت ہتھیاروں کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ ان میں چھے میزائل لانچر، تین گاڑیاں اور بڑی تعداد میں دوشکا طرز کی مشین گنز شامل ہیں۔