.

لاپتا لیبی سیاستدان کی نعش 19 برس بعد مل گئی

قذافی مخالف منصور الکیخیا قاہرہ میں اغوا ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لیبیا کے مقتول مرد آہن کے اہم سیاسی مخالف اور سابق لیبی وزیر خارجہ منصور الکیخیا کی لاش طرابلس کے ایک نجی مکان میں قائم لیبی خفیہ ادارے کے دفتر سے ملی ہے۔ مقتول انیس برس قبل قاہرہ میں لا پتا ہو گئے تھے۔

اس امر کی تصدیق سارییوو فرزنک لیب سے ڈی این اے ٹیسٹ کی طرابلس بھیجی جانے والی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ لیبی ڈپٹی اٹارنی جنرل عبدالعزیز الحصادی نے دفتر میں موصول ہو چکی ہے جس کا سرکاری طور پر مشتہر ہونا باقی ہے۔

سرکاری طور پر لیبی حکام نے ابھی تک منصور الیکخیا کی نعش ملنے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا تاہم سابق عبوری حکومت میں نائب وزیر اعظم ڈاکٹر مصطفی ابو شاقور نے فیس بک پر اپنے مختصر بیان میں منصور کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا۔

منصور الکیخیا کے بھائی محمود نے لندن سے شائع ہونے والے روزنامے 'الشرق الاوسط' سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ منصور کی نعش کا ڈی این اے ٹیسٹ 'پازیٹو' آیا ہے۔ نعش کے سیمپل منصور کے خاندان اور بچوں کے خون کے نمونے سے ہم آہنگ پائے گئے۔

محمود الکیخیا نے بتایا کہ نعش کی جلد اور طوالت ساری منصور کے ظاہری اوصاف سے ملتی ہے۔ نعش کے سینے میں خنجر کے وار کا نشان ہے، جس کا سبب معلوم نہیں۔ اب لاش کی تفصیلی پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کی جائے گی جس میں موت کی وجوہات کا تعین کیا جائے گا۔

محمود نے بتایا کہ لیبی حکام منصور الکیخیا کی آخری رسومات ان کے اہل خانہ کی موجودگی میں سرکاری طور پر ادا کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ہمارے بھائی کی نعش ملنے سے خاندان کے 19 سالا انتظار کا عذاب کبھی ختم نہیں ہو سکے گا۔

محمود نے بتایا کہ لیبی انٹلیجنس کے سربراہ عبداللہ السنوسی منصور کے اغوا کا اعتراف کر چکے ہیں۔ بہ قول السنوسی، اس آپریشن کی نگرانی لیبیا کے سابق وزیر خارجہ ابراہیم البشاری نے کی، جو منصور کے اغوا کے وقت قاہرہ میں سفیر تھے۔ البشاری بعد میں ایک پراسرار ٹریفک حادثے میں مارے گئے۔ لیبی ذرائع کا کہنا ہے کہ البشاری کے پاس اہم راز تھے اور اسی لئے کرنل قذافی نے انہیں پراسرار طور پر قتل کرا دیا۔

انہوں نے کہا کہ منصور الکیخیا کی نعش طرابلس میں لیبی خفیہ ادارے کے گھر سے ملی۔ 'مکتب النصر' نامی دفتر ایک نجی مکان میں بنایا گیا تھا۔ میرے بھائی نے چار سال جیل میں گذارے۔

عبداللہ السنوسی کی نشاندہی والی جگہ سے لیبی حکام کو تین نعشیں ملی تھیں، جن میں ایک کے بارے میں شک گذرا کہ وہ لبنان سے تعلق رکھنے والے شیعی رہنما موسی الصدر کی ہو سکتی ہے۔ موسی الصدر اپنے دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ 1978ء میں لاپتا ہو گئے تھے، تاہم لیبی حکام نے اس شبہے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک نعش لیبیا کے سابق وزیر خارجہ منصور الکیخیا کی ہو سکتی ہے۔

قاہرہ میں الکیخیا کے اغوا سے متعلق اہم گوشے بے نقاب ہونے پر سابق مصری صدر حسنی مبارک اور کرنل معمر قذافی کے درمیان 'خفیہ' تعلقات بے نقاب ہونے کا اندیشہ ہے۔