.

نجیب ساویرس کا الجزائر کے خلاف پانچ ارب ڈالرز ہرجانے کا دعویٰ

الجزائری حکومت پر کاروباری معاملات میں مداخلت کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کی معروف ارب پتی کاروباری شخصیت نجیب ساویرس کی ملکیتی فرم ویدھر انویسٹمنٹس (موسمی سرمایہ کاری) نے الجزائر کی حکومت کے خلاف کاروبار میں مداخلت کے الزام میں پانچ ارب ڈالرز ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا ہے۔

نجیب ساویرس نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں الجزائری حکومت پر موبائل فون کمپنی کے کاروباری معاملات میں مداخلت کے الزامات عاید کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ الجزائری حکومت نے ہماری سرگرمیوں میں مداخلت نہ کرنے کے وعدے کو توڑا ہے اور اس نے سال 2008ء کے بعد سے مداخلت اور ہراسیت کی باقاعدہ ایک مہم شروع کر رکھی تھی جس کی وجہ سے ویدھر انویسٹمنٹس کو پانچ ارب ڈالرز کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

لکسمبرگ میں قائم اس فرم نے دعویٰ کیا ہے کہ الجزائر نے متعدد مرتبہ دونوں فریقوں کے درمیان 1991ء میں طے پائے سمجھوتے کی خلاف ورزی کی ہے اور وہ اس کے تحت اپنی ذمے داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ بلجو لکسمبرگ اکنامک یونین اور عوامی جمہوریہ الجزائر کے درمیان سرمایہ کاری کی باہمی حوصلہ افزائی اور اس کے تحفظ سے متعلق یہ معاہدہ طے پایا تھا۔

فرم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ الجزائر نے غیر منصفانہ ٹیکس عاید کرنے سے لے کر اشیاء کی درآمد کو روکنے کے لیے کسٹم کی پابندیاں عاید کر دی تھیں اور ایک ارب تیس کروڑ ڈالرز مالیت کے غیر ضروری جرمانے عاید کیے تھے۔

مسٹر ساویرس کے بہ قول :''یہ ایک بری پییش رفت ہے نہ صرف ہمارے لیے بلکہ الجزائر میں تمام غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بھی۔ الجزائر خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں ایک الگ تھلگ مثال بن کر کھڑا ہے حالانکہ خطے کے دوسرے ممالک میں بین الاقوامی کاروباری حلقے کی حوصلہ افزائی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں''۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ الجزائر کو کمپنی کی جانب سے اس تنازعے سے متعلق چھے ماہ قبل مطلع کر دیا گیا تھا لیکن اس نے اس کا کوئی جواب دینا گوارا نہیں کیا۔ اس عدم سرگرمی کے ردعمل میں ویدھر انویسٹمنٹس نے سرمایہ کاری سے متعلق تنازعات کو طے کرنے لیے قائم بین الاقوامی مرکز سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ برانچ امریکا میں عالمی بنک میں قائم ہے۔ انھوں نے الجزائر پر سرمایہ کاری سے متعلق دوسرے معاہدوں کو توڑنے کا بھی الزام عاید کیا ہے۔

اس تنازعے میں الجزائری حکومت کی نمائندگی کرنے والی فرم شئیرمین اینڈ اسٹرلنگ کے سربراہ عمانوایل گیلارڈ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ویدھر انویسٹمنٹس نے ثالثی کے لیے قانونی چارہ جوئی شروع کر دی ہے لیکن ہم اس کا بھرپور دفاع کریں گے کیونکہ ہمارے خیال میں دعوے دار کا کوئی کیس نہیں بنتا۔ انھوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ویدھر انوسٹمنٹس اورسکام ٹیلی کام الجزائر میں ایک اقلیتی شئیر ہولڈر ہے اور وہ اس کیس کی پیروی نہیں کر سکتی جبکہ ہمارے نزدیک معاہدے کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔