.

شامی بحران حل کے خواہاں ممالک باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی بند کریں خامنہ ای

'باغی ہتھیار ڈالیں تو ان کے مطالبات منوانے کی کوشش کریں گے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ شام کا سیاسی اور سیکیورٹی بحران حل کرنے کے خواہاں ممالک بشار الاسد مخالف باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی بند کر دیں اور حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کی راہ اختیار کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ شام کے مسئلے کا مناسب حل صرف یہ ہے کہ باغیوں کو مسلح کرنے کے بجائے ان سے ہتھیار واپس لیے جائیں۔ اگر باغی ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کر لیں تو ایران ان کے تمام جائز مطالبات دمشق حکومت تک پہنچانے اور انہیں منوانے کی پوری کوشش کرے گا۔



ایرانی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم لیڈر نے ان خیالات کا اظہار حج کمیشن کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے شامی انقلابیوں کو طاقت کے ذریعے کچلنے کی حمایت کی۔ خامنہ ای کے بہ قول اگر تمام ممالک شامی باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی بند کر دیں تو حکومت آسانی سے اپوزیشن پر قابو پانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔



آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ اگر شامی باغی ہتھیار پھینک کر بات چیت کی طرف آتے ہیں تو تہران ان کی پوری مدد کرے گا۔ ان کے مطالبات کو شامی حکومت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور ان کے موقف کو سنجیدگی سے سنا جائے گا۔



سپریم لیڈر نے اپنی گفتگو میں سنہ 2009ء کے متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد اٹھنے والی احتجاج کی لہر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے طاقت کے ذریعے اس ’’غیر قانونی‘‘ احتجاجی تحریک کو کچل دیا تھا۔



انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا شام کے بارے میں موقف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں بلکہ واضح ہے۔ وہ یہ کہ شام میں باغیوں کی تحریک عوامی تحریک نہیں بلکہ متکبر ریاستوں کی سازش ہے جو شام کی قوت مزاحمت پر ضرب لگانا چاہتے ہیں۔ متکبر طاقتوں کو صہیونی ریاست کے پہلو میں ایک ایسا ملک گوارا نہیں جو اس کی رعونت کو طاقت کے ذریعے ٹھکرانے اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔



آیت اللہ خامنہ ای نے شامی اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کی ضرورت پر زور دیا مگر ایران میں قید اصلاح پسند اپوزیشن رہ نماؤں سے کسی قسم کے مذاکرات کو خارج از امکان قرار دیا۔ ایران میں اصلاح پسندوں کے حمایتی ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت اور سپریم لیڈر دوغلی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

ایک جانب وہ شامی باغیوں اور حکومت کو بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کی ترغیب دیتے ہیں اور دوسری جانب میر حسین موسوی جیسے مرکزی اصلاح پسند رہنماء فروری 2011ء سے کسی مقدمہ کے بغیر جیل میں پابند سلاسل ہیں۔ تہران انہیں رہا کرنے یا ان کی بات سننا بھی گوارا نہیں کرتا۔