.

قطری وکیل عدالت میں شامی صدر بشار الاسد کے دفاع کو تیار

صدام حسین کو پھانسی سے بچانے میں ناکام وکیل کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
قطر کے ایک معروف وکیل نجیب بن محمد آل نعیمی نے کہا ہے کہ اگر شامی صدر بشار الاسد کے خلاف مقدمہ چلایا جاتا ہے تو وہ عدالت میں ان کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

نجیب بن محمد آل نعیمی قطر کے سابق وزیر انصاف رہے ہیں اور وہ ماضی میں اپنے ہی عوام کے خلاف جرائم کے مرتکب مختلف ممالک کے لیڈروں کا عدالتوں میں دفاع کا تجربہ رکھتے ہیں۔

وہ عراق کے سابق صدر صدام حسین کے وکلاء کی ٹیم میں بھی شامل تھے اور ان پر صدام حسین کے خلاف عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران 2006ء میں بغداد میں دو مرتبہ قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔ انھوں نے تب کہا تھا کہ انھوں نے عدالت میں سابق عراقی صدر کی وکالت کی کوئی فیس نہیں لی تھی۔

صدام حسین کو 30 دسمبر 2006ء کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔ انھیں بغداد کی مرکزی فوجداری عدالت نے عراقی قصبے الدوجیل میں 1982ء میں ایک سو اڑتالیس شیعہ افراد کے اجتماعی قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی اور ان کے ساتھ سات اور مدعا علیہان کو بھی اسی واقعے میں ملوث ہونے کے جرم میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

تاہم سابق قطری وزیر نے مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کی وکالت کی پیش کش مسترد کر دی ہے۔ حسنی مبارک کو اس سال جون میں گذشتہ سال جنوری اور فروری میں ان کی حکومت کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہروں کے دوران ساڑھے آٹھ سو مصریوں کو ہلاک کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

نجیب بن محمد آل نعیمی کا کہنا ہے کہ سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر بے گناہ ہیں اور انھوں نے سوڈانی صدر کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی ) میں پیش ہو کر اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کا سامنا کریں۔ آئی سی سی نے ان کے خلاف 2009ء میں مغربی علاقے دارفور میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں فرد جرم عاید کی تھی۔