مصری صدارتی ترجمان کی صحافیہ سےخفیہ شادی عدالت میں چیلنج

مبینہ بیوی ثبوت پیش کرنے کو تیار، ڈاکٹر یاسر انکاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

مصری ٹیلی ویژن چینل 'المحور' سے بات کرتے ہوئے عبیر محمود نے کہا کہ ڈاکٹر یاسر علی سے خفیہ شادی کے میرے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں البتہ میں انہیں صرف عدالت ہی میں پیش کروں گی۔ عدالت جو فیصلہ کرے گی مجھے منظور ہو گا۔

عبیر کا کہنا ہے کہ میں نے خصوصی عدالت میں اپنا کیس اس لیے دائرکیا ہے تاکہ معاملے کو زیادہ اچھالا نہ جائے۔ اگر میں چاہتی تو اٹارنی جنرل کو درخواست دے سکتی تھی۔ میں معاملے کو سیاسی ایشو نہیں بنانا چاہتی۔ اپنے شوہر ڈاکٹر یاسر علی کے خلاف دائر مقدمہ کے بارے میں ایک دوسرے سوال کے جواب میں عبیر کا کہنا تھا کہ وہ معاملےکو ہمدردانہ طریقے سے حل کرنے کی خواہاں تھی لیکن میرے تمام راستے بند کر دیے گئے جس کے بعد مجھے عدالت میں جانا پڑا ہے۔

مصری ایوان صدر کا ترجمان اہم ترین عہدہ ہے اور متنازعہ شادی اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چاہے عدالتی فیصلہ کچھ بھی ہو بہرحال ڈاکٹر یاسر کو اپنے منصب کی قربانی دینا پڑ سکتی ہے۔ البتہ خود ڈاکٹر یاسر مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسر کا کہنا تھا کہ میرے خلاف جعلی مقدمات اور شادی کے جھوٹے اسکینڈل تیار کیے جا رہے ہیں۔ میں اُنہیں ایک سازش سمجھتا ہوں لیکن میرا خیال ہے کہ ایسی سازشوں سے میرے منصب کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ میں بدستور اپنے عہدے پر کام کر رہا ہوں اور اسے جاری رکھوں گا۔

خاتون صحافی عبیر محمود کے وکیل سمیر صبری کا کہنا ہے کہ وہ اپنی موکلہ کا مقدمہ پوری تیاری سے لڑ رہے ہیں۔ وہ یہ ثابت کریں گے کہ ڈاکٹر یاسر علی نے عبیر سے خفیہ شادی کر رکھی ہے اور ان کے اس کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاہے اس کے نتائج کچھ بھی ہوں لیکن وہ عدالت میں ثابت کر کے رہیں گے۔ سمیر صبری کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر یاسر علی اپنا عہد بچانے کے لیے شادی سے انکاری ہیں لیکن انہیں اب تلخ حقائق کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں