.

مصری صدارتی ترجمان کی صحافیہ سےخفیہ شادی عدالت میں چیلنج

مبینہ بیوی ثبوت پیش کرنے کو تیار، ڈاکٹر یاسر انکاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر میں ایوان صدر جہاں ان دنوں غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد پیدا ہونے والے تنازع کے حل کی سفارتی کوششوں کا مرکز ہے وہیں ایوان صدر کے ترجمان ڈاکٹر یاسر علی کی ایک صحافیہ کے ساتھ خفیہ شادی کے اسکینڈل نے ملک کی ابلاغی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

'الیوم السابع' سے وابستہ خاتون صحافی عبیر محمود کا دعویٰ ہے کہ ڈاکٹر یاسر علی نے ان سے (خفیہ) شادی کر رکھی ہے جبکہ ڈاکٹر یاسر علی اور ان کے وکلاء اسے جھوٹا پروپیگنڈہ قرار دیتے ہیں۔ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس کا فیصلہ اب عدالت کرے گی کیوں کہ ڈاکٹر علی اور ان کی خفیہ منکوحہ نے اپنے اپنے طور پر ایک دوسرے کے خلاف عدالتوں میں درخواستیں دے رکھی ہیں۔



ڈاکٹر یاسر علی نے عبیر محمود اور اخبار الفجر کے خلاف درخواست دائر کرائی ہے۔ جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 'الفجر' نے عبیر محمود کے ایماء پر ان کی ذاتی تصاویر شائع کی ہیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ میری مؤخر الذکر [عبیر] سے خفیہ شادی ہو چکی ہے حالانکہ یہ سب جھوٹ ہے اور عدالت اس کی تحقیقات کرائے۔



دونوں فریقین اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ مدعی علیہا عبیر کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ڈاکٹر یاسر علی کے ساتھ خفیہ شادی کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں جنہیں وہ مناسب وقت اور موقع پر عدالت میں پیش کرے گی۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ عبیر محمود ڈاکٹر یاسر علی خلاف شادی کے ثبوت پیش کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور عدالت انہیں درست مان لیتی ہے تو ایسی صورت میں ترجمان ایوان صدر کو اپنے اس اعلیٰ عہدے سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔



ڈاکٹر یاسر علی اور ان کی مبینہ منکوحہ کے درمیان شادی کے انکار اور اقرار کا اسکینڈل ملک کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے بڑے پیمانے پر اچھالا ہے جس سے نہ صرف ڈاکٹر یاسر بلکہ کسی حد تک ایوان صدر کی بھی سبکی ہوئی ہے۔

خفیہ شادی کیس کو سب سے زیادہ جلی سرخیوں کے ساتھ اخبار 'الیوم السابع' نے شائع کیا ہے۔ عبیر محمود اسی اخبار میں نامہ نگار کے طور پر کام کر چکی ہے جہاں ایوان صدر ان کی 'بیٹ' تھا۔ اخبار الفجر میں ڈاکٹر یاسر علی کے ساتھ اپنی تصاویر کی اشاعت کے بعد عبیر کے اچانک کام چھوڑ دیا تھا۔

عبیر نے اپنے طور پر خصوصی عدالت میں بھی درخواست دے رکھی ہے۔ روزنامہ الیوم السابع کی رپورٹ کے مطابق عبیر نے اپنی درخواست میں دو تصاویر اور اپنے شناختی کارڈ کی نقل بھی بطور ثبوت عدالت میں جمع کرائی ہیں۔ ان تصاویر میں عبیر اور ڈاکٹر یاسر علی کو ایک ساتھ کھڑے دکھایا گیا ہے۔

ادھر الجیزہ گورنری میں صدارتی ترجمان ڈاکٹر یاسر علی کی درخواست پر واقعہ کی تحقیقات کا آغاز شروع ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر یاسر نے اپنی درخواست میں اخبار الفجر کے چیف ایڈیٹر عادل حمودہ کو فریق بنایا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ حمودہ نے ان کی عبیر کے ساتھ شادی کی جعلی تصاویر شائع کر کے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔

عبیر محمود کا موقف

مصری ٹیلی ویژن چینل 'المحور' سے بات کرتے ہوئے عبیر محمود نے کہا کہ ڈاکٹر یاسر علی سے خفیہ شادی کے میرے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں البتہ میں انہیں صرف عدالت ہی میں پیش کروں گی۔ عدالت جو فیصلہ کرے گی مجھے منظور ہو گا۔

عبیر کا کہنا ہے کہ میں نے خصوصی عدالت میں اپنا کیس اس لیے دائرکیا ہے تاکہ معاملے کو زیادہ اچھالا نہ جائے۔ اگر میں چاہتی تو اٹارنی جنرل کو درخواست دے سکتی تھی۔ میں معاملے کو سیاسی ایشو نہیں بنانا چاہتی۔ اپنے شوہر ڈاکٹر یاسر علی کے خلاف دائر مقدمہ کے بارے میں ایک دوسرے سوال کے جواب میں عبیر کا کہنا تھا کہ وہ معاملےکو ہمدردانہ طریقے سے حل کرنے کی خواہاں تھی لیکن میرے تمام راستے بند کر دیے گئے جس کے بعد مجھے عدالت میں جانا پڑا ہے۔

شادی اسکینڈل، ڈاکٹر یاسر کے عہدے کو خطرہ؟

مصری ایوان صدر کا ترجمان اہم ترین عہدہ ہے اور متنازعہ شادی اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چاہے عدالتی فیصلہ کچھ بھی ہو بہرحال ڈاکٹر یاسر کو اپنے منصب کی قربانی دینا پڑ سکتی ہے۔ البتہ خود ڈاکٹر یاسر مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسر کا کہنا تھا کہ میرے خلاف جعلی مقدمات اور شادی کے جھوٹے اسکینڈل تیار کیے جا رہے ہیں۔ میں اُنہیں ایک سازش سمجھتا ہوں لیکن میرا خیال ہے کہ ایسی سازشوں سے میرے منصب کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ میں بدستور اپنے عہدے پر کام کر رہا ہوں اور اسے جاری رکھوں گا۔

خاتون صحافی عبیر محمود کے وکیل سمیر صبری کا کہنا ہے کہ وہ اپنی موکلہ کا مقدمہ پوری تیاری سے لڑ رہے ہیں۔ وہ یہ ثابت کریں گے کہ ڈاکٹر یاسر علی نے عبیر سے خفیہ شادی کر رکھی ہے اور ان کے اس کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاہے اس کے نتائج کچھ بھی ہوں لیکن وہ عدالت میں ثابت کر کے رہیں گے۔ سمیر صبری کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر یاسر علی اپنا عہد بچانے کے لیے شادی سے انکاری ہیں لیکن انہیں اب تلخ حقائق کا سامنا کرنا پڑے گا۔