.

تیونس 100 سلفی محروسین کی بھوک ہڑتال، حکومت کو تنقید کا سامنا

دوران حراست نوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
تیونس کے زیر حراست ایک سو سخت گیر سلفی کارکنوں اور رہنماؤں کی اپنی گرفتاری اور دو نوجوانوں کی دوران حراست ہلاکت کے خلاف بھوک ہڑتال جاری ہے۔ محروسین میں سے بیشتر کا تعلق شدت پسند گروپوں سے ہے اور انہیں 14 نومبر 2012ء کو تیونس میں امریکی سفارت خانے پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔



تیونسی وزارت انصاف کے ترجمان فوزی جاب اللہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ بھوک ہڑتالی محروسین کے مکمل طبی چیک اپ کا انتظام موجود ہے۔ دوران حراست اور جیل سے اسپتالوں میں منتقلی کے دوران ان کی صحت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے، تاہم اس کے باوجود ملزمان اپنی گرفتاری کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔



خیال رہے کہ اسیر سلفی کارکنوں نے امریکی سفارت خانے پر حملے میں ملوث ہونے کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے جیلوں میں گھیسٹ رہی ہے۔ محروسین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملزمان کو جیلوں میں ڈالنے کے بجائے ان کے خلاف جیل سے باہر مقدمات چلائے وہ تعاون کرنے کو تیار ہیں۔



وزارت انصاف کے ترجمان کا کہنا تھا کہ تمام قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک روا رکھا جا رہا ہے اور کسی قیدی کےساتھ امتیازی رویہ نہیں برتا گیا ہے۔ اس کے باوجود قیدیوں کا بھوک ہڑتال کرنا ناقابل فہم ہے۔



ایک سوال کے جواب میں فوزی جاب اللہ کا کہنا تھا کہ سلفی بھوک ہڑتالیوں کو عدالت کے حکم پر حراست میں رکھا گیا ہے۔ یہ لوگ اپنی بھوک ہڑتال سے عدلیہ کو بلیک میل نہیں کر سکتے ہیں۔ ادھر تیونس کے اسپتال ذرائع نے بتایا ہے کہ کئی روز سے بھوک ہڑتالی اسیران کو خرابی صحت کی بناء پر جیل کی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج معالجہ جاری ہے۔

صدر اور وزیر قانون کے ٹرائل کا مطالبہ

تیونس میں زیر حراست درجنوں سلفی کارکنوں کی بھوک ہڑتال کے بعد ان کے عزیزو اقارب نے بھی حکومت کے خلاف احتجاج تیز کر دیا ہے۔ محروسین کےاہل خانہ کا کہنا ہے کہ امریکی سفارت خانے پر حملے کے الزام میں گرفتار ان کے عزیزوں کے ساتھ نہایت ظالمانہ سلوک روا رکھا گیا ہے۔ قیدی ادنیٰ درجے کے انسانی حقوق سے بھی محروم ہیں جس کے بعد وہ بھوک ہڑتال پر مجبور ہوئے ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو حکومت دانستہ طور پر ہراساں اور انہیں قتل کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ قیدیوں کی صحت کے حوالے سے کوئی رو رعایت نہیں برتی جاتی۔

بدھ کے روز تیونس میں ایک احتجاجی مظاہرے کے موقع پر محروسین کے اہل خانہ نے صدر مملکت اور وزیر انصاف سمیت دیگر متعلقہ عہدیداروں کو اپنے پیاروں کے ساتھ بدسلوکی کا ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قیدیوں سے بدسلوکی میں خود صدر مملکت، وزیر قانون و انصاف، وزیر برائے انسانی حقوق، تفتیشی افسر، سیکرٹری ریاست اور المرناقیہ جیل کا نگران برابر ملوث ہیں۔ ان کا بھی محاسبہ ہونا چاہیے۔ یہ سب لوگ بھی قانون سے ماوراء نہیں ہیں۔ ان کے خلاف بھی قانون کو حرکت میں آنا چاہیے۔

خیال رہے کہ تیونس میں دو ماہ قبل امریکی سفارت خانے پر حملے کے الزام میں درجنوں سلفی نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ محروسین نےاپنی گرفتاری کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کی تھی جس کے نتیجے میں دو افراد جیل ہی میں وفات پا گئے تھے۔ زیر حراست ملزمان کی حراست کے بعد تیونسی حکومت کو عوامی سطح پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

وزارت انصاف نے عوامی غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے انسانی حقوق کے گروپوں کو جیلوں کا دورہ کرنے اور سلفی محروسین سے اجازت دینے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔