تیونس 100 سلفی محروسین کی بھوک ہڑتال، حکومت کو تنقید کا سامنا

دوران حراست نوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تیونس میں زیر حراست درجنوں سلفی کارکنوں کی بھوک ہڑتال کے بعد ان کے عزیزو اقارب نے بھی حکومت کے خلاف احتجاج تیز کر دیا ہے۔ محروسین کےاہل خانہ کا کہنا ہے کہ امریکی سفارت خانے پر حملے کے الزام میں گرفتار ان کے عزیزوں کے ساتھ نہایت ظالمانہ سلوک روا رکھا گیا ہے۔ قیدی ادنیٰ درجے کے انسانی حقوق سے بھی محروم ہیں جس کے بعد وہ بھوک ہڑتال پر مجبور ہوئے ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو حکومت دانستہ طور پر ہراساں اور انہیں قتل کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ قیدیوں کی صحت کے حوالے سے کوئی رو رعایت نہیں برتی جاتی۔

بدھ کے روز تیونس میں ایک احتجاجی مظاہرے کے موقع پر محروسین کے اہل خانہ نے صدر مملکت اور وزیر انصاف سمیت دیگر متعلقہ عہدیداروں کو اپنے پیاروں کے ساتھ بدسلوکی کا ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قیدیوں سے بدسلوکی میں خود صدر مملکت، وزیر قانون و انصاف، وزیر برائے انسانی حقوق، تفتیشی افسر، سیکرٹری ریاست اور المرناقیہ جیل کا نگران برابر ملوث ہیں۔ ان کا بھی محاسبہ ہونا چاہیے۔ یہ سب لوگ بھی قانون سے ماوراء نہیں ہیں۔ ان کے خلاف بھی قانون کو حرکت میں آنا چاہیے۔

خیال رہے کہ تیونس میں دو ماہ قبل امریکی سفارت خانے پر حملے کے الزام میں درجنوں سلفی نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ محروسین نےاپنی گرفتاری کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کی تھی جس کے نتیجے میں دو افراد جیل ہی میں وفات پا گئے تھے۔ زیر حراست ملزمان کی حراست کے بعد تیونسی حکومت کو عوامی سطح پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

وزارت انصاف نے عوامی غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے انسانی حقوق کے گروپوں کو جیلوں کا دورہ کرنے اور سلفی محروسین سے اجازت دینے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں